رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں احمد زئی وزیر قبیلہ کے ایک جرگہ میں دو سوافراد پر مشتمل مسلح لشکر تیار کرلیا گیا ہے جو غیرملکیوں کو علاقہ بدر کرنے کےلئے کارروائی کا آغاز کسی وقت بھی کرسکتا ہے۔
دوسری طرف دو ہفتوں سے جاری جھڑپیں منگل کے روز بھی وقفے وقفے سے جاری رہی تاہم تازہ لڑائی میں تاحال کسی کی ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
ادھر حکومت حامی قبائل جنگجوؤں کے سربراہ مولوی نذیر کے ساتھیوں کی جانب سے وانا بازار میں ایک پمفلٹ تقسیم کیا گیا ہے جس میں ازبک غیر ملکیوں کے کمانڈر طاہر یلدیشف کو امریکہ اور افغان صدر حامد کرزئی کا مبینہ ایجنٹ قرار دے کر ’واجب القتل’ قرار دیا گیا ہے۔
جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق احمد زئی وزیر قبیلے کا ایک جرگہ امن کمیٹی کے سابق رکن ملک شرین جان کی قیادت میں منعقد ہوا جس میں سینکڑوں قبائیلیوں نے شرکت کی۔
جرگے میں فیصلہ کیا گیا کہ پہلے مرحلے میں دو سو جنگجوؤں کا لشکر مقامی قبائل کے سربراہ مولوی نذیر کی قیادت میں غیر ملکیوں کے خلاف لڑے گا جبکہ دیگر سات سو مسلح افراد ضرورت پڑنے پر لشکر کا ساتھ دیں گے۔
اطلاعات ہیں کہ پیر کی رات وانا سکواٹس کیمپ میں تعینات پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے شین ورسک کے علاقے پر وقفے وقفے سے توپ خانے کے گولے فائر کئے گئے ہیں تاہم سرکاری ذرائع سے اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
حکومت کی طرف سے شین ورسک کے علاقوں میں امن معاہدے کی نتیجے میں خالی کرائے گئے مورچوں پر غیر ملکیوں کا قبضہ بدستور برقرار ہے۔
قبائل اور غیر ملکیوں کے مابین انیس مارچ سے شروع ہونے والی اس لڑائی میں اب تک لگ بھگ 200 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔