http://bbc.com.im/urdu/

رفاقت علی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

سرکار کے وکیل وسیم سجاد

جسٹس افتخار محمد چوہدری کےخلاف صدارتی ریفرنس کی پیروی کرنے کے لیےحکومتی وکیل راجہ قریشی اب حکومت کی نمائندگی نہیں کریں گے۔

سندھ کے سابق ایڈوکیٹ جنرل راجہ قریشی کو حکومت نے جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف صدارتی ریفرنس میں حکومت کی پیروی کرنے کے لیے اپنا وکیل مقرر کیا تھا اور وہ کونسل کی پچھلی میٹنگ میں حکومت کے وکیل کے طور پر پیش ہوئے تھے لیکن و ہ منگل کو سپریم جوڈیشل کونسل کےسامنے پیش نہیں ہوئے۔

’کارروائی کھلی عدالت میں‘
جسٹس کی معطلی: وکلاء کا احتجاج
صدارتی ریفرنس: سماعت تیرہ اپریل تک ملتوی
جسٹس چودھری کیس: خصوصی ضمیمہ
سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل چیلنج
راجہ قریشی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ وہ میڈیکل چیک اپ کے لیے ملک سے باہر جا رہے ہیں اور اب شاید وہ حکومت کے طرف سے اس ریفرنس میں پیش نہ ہوں ۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ حکومت سے ناراض ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہر موکل کو حق ہوتا ہے کہ وہ اپنا وکیل چنے اور حکومت بھی ایک موکل ہے اور اس کو بھی حق ہے کہ وہ اپنی مرضی کا وکیل چن لے۔

حکومت نے ایڈوکیٹ وسیم سجاد کو اپنا وکیل مقرر کیا ہے جنہوں نے منگل کو ڈاکٹر خالد رانجھا کے ہمراہ سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے حکومتی موقف پیش کیا۔

راجہ قریشی نے کہا کہ وہ وسیم سجاد کی عزت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ میڈیکل چیک اپ کے لیے جلد لندن روانہ ہو جائیں گے۔

ادھر جمہوری وطن پارٹی سے تعلق رکھنے والے بلوچستان کے سابق ایڈوکیٹ جنرل امان اللہ کنرانی حکومتی وکلاء کے پینل میں شامل ہو گئے ہیں اور وہ منگل کو سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش ہوئے۔