Monday, 02 April, 2007, 08:22 GMT 13:22 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
متحدہ مجلس عمل بلوچستان میں اگر حکومت سے علیحٰدگی اختیار کر لیتی ہے تو کیا ہوگا؟ کیا ایم ایم اے حزب اختلاف سے مل کر حکومت سازی کرے گی؟ یا مسلم لیگ حزب اختلاف کے ارکان کو توڑ کر اپنی حکومت قائم رکھ سکے گی؟
بلوچستان اسمبلی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان کی تعداد پر اگر نظر ڈالی جائے تو موجودہ حالات میں دونوں یعنی مسلم لیگ اور ایم ایم اے کے لیے علیحٰدہ علیحٰدہ حکومت بنانا مشکل ہوگا۔
بلوچ اور پشتون قوم پرست جماعتیں مسلم لیگ کے ساتھ ملکر حکومت سازی کرنا نہیں چاہتیں اور ایم ایم اے کی بلوچستان اسمبلی میں کارکردگی سے قوم پرست ناراض ہیں۔
بلوچستان میں اس وقت متحدہ مجلس عمل اور مسلم لیگ (قائداعظم) کی مخلوط حکومت قائم ہے جبکہ پیپلز پارٹی اور پشتون بلوچ قوم پرست جماعتیں حزب اختلاف کا حصہ ہیں۔
مرکزی سطح پر پہلے متحدہ مجلس عمل کے اندر یہ مطالبہ زور پکڑتا گیا کہ بلوچستان حکومت سے علیحٰدگی اختیار کر لی جائے، لیکن چونکہ یہاں متحدہ مجلس عمل بلوچستان میں تمام منتخب اراکین کا تعلق جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ سے ہے اس لیے اس جماعت کے قائدین مبینہ طور پر اس مطالبے کو تسلیم نہیں کر رہے تھے۔
بلوچستان میں اس وقت ایم ایم اے کے ارکان کے تعداد انیس تھی، لیکن ایک کو نااہل قرار دینے کے بعد یہ تعداد اب اٹھارہ ہوگئی ہے۔ حکمران مسلم لیگ کے ارکان کی تعداد اکیس ہے اور انہیں نیشنل الائینس کے سات ارکان کی حمایت بھی حاصل ہے اس طرح ان کی تعداد اٹھائیس ہو جاتی ہے۔
حزب اختلاف کے ارکان کی تعداد تو انیس تھی ان میں ڈاکٹر عبدالحئی کی نیشنل پارٹی کے ارکان کی تعداد پانچ، پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے ارکان کے تعداد پانچ، جمہوری وطن پارٹی کے چار، بلوچستان نیشنل پارٹی کے 2، پاکستان پیپلز پارٹی کے 2 اور ایک آزاد رکن بالاچ مری شامل تھے۔
لیکن اس وقت صورتحال مختلف ہے۔ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے ایک رکن کو عدالت نے نا اہل قرار دے دیا تھا اور ان کے حلقے میں ضمنی انتخاب بھی ہوا لیکن دونوں جانب سے الزامات اور تشدد کے واقعات کی وجہ سے ان کا نتیجہ سامنے نہیں آیا اور اب تک اس پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔
اسی طرح بلوچستان نیشنل پارٹی کے دونوں اراکین نے نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد اسمبلی سے استعفی دے دیا تھا۔ جمہوری وطن پارٹی کے اراکین کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انہوں حکمران مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی ہے لیکن یہ اراکین اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہیں کر رہے اور بالاچ مری تو بلوچستان اسمبلی کے کسی اجلاس میں بھی نہیں آئے۔ اس ساری صورتحال میں حزب اختلاف کے اراکین کی تعداد گیارہ رہ گئی ہے۔
مسلم لیگ سے علیحٰدگی |
ادھر اگر مسلم لیگ جمہوری وطن پارٹی کے اراکین کو اپنے ساتھ شامل کرلے تو ان کی تعداد بتیس ہوتی ہے انہیں بھی ایک مزید رکن کی ضرورت رہے گی۔
بلوچستان اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ مجلس عمل بلوچستان کے رہنما شاید اپنی مرکزی قیادت سے متفق نہ ہوں کیونکہ بلوچستان میں ایم ایم اے کے قائدین نے صدر مشرف سے خفیہ ملاقاتیں کی ہیں اور وہ حکمران مسلم لیگ سے علیحٰدگی اختیار نہیں کریں گے۔
دوسری جانب ایم ایم اے کے صوبائی صدر اور رکن قومی اسمبلی مولانا محمد خان شیرانی نے گزشتہ دنوں ایک اخباری کانفرنس کے بعد بی بی سی سے کہا تھا کہ ’حکومت سازی کے وقت ہماری ترجیح قوم پرست جماعتیں تھیں لیکن قوم پرست جماعتوں کے قائدین کے رویے کی وجہ سے ہم نے مسلم لیگ کے ساتھ مل کر حکومت بنائی اور اب بھی اگر قوم پرست جماعتیں حکومت بنانا چاہتی ہیں تو مجلس عمل بغیر کسی وزارت کے مطالبے کے قوم پرست جماعتوں کی مکمل حمایت کو تیار ہے‘۔
نشینل پارٹی کے رہنما کچکول علی ایڈووکیٹ سے جب میں نے ایم ایم اے کے رہنما کے بیان کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ مجلس عمل کے بیانات اور عمل میں تضاد ہے۔ انہوں نے یہ شعر بھی پڑھ کر سنایا۔۔۔
’اب مجھ پہ نزع کا عالم ہے تم اپنی محبت واپس لو
جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تب بوجھ اتارا کرتے ہیں‘