Monday, 02 April, 2007, 06:36 GMT 11:36 PST
رفاقت علی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سپریم کورٹ آف پاکستان کے قائم مقام چیف جسٹس، جسٹس بھگوان داس، نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے واقعے پر اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ کے اعلیٰ اہلکاروں کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کر دیئے ہیں۔
جن اہلکاروں کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں ان میں اسلام آباد پولیس کے آئی جی افتخار احمد، ایس ایس پی ظفر اقبال، ڈی ایس پی جمیل ہاشمی، متعلقہ تھانے کے انچارج رخسار مہدی اور انتظامی افسروں میں کمشنر خالد پرویز اور ڈپٹی کمشنر چوہدری محمد علی شامل ہیں۔
توہین عدالت کے نوٹس کے تحت ان تمام اہلکاروں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ چار اپریل کو سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہوں۔
سرکاری گاڑی میں بیٹھنے سے انکار کرتے ہوئے چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کی عمارت تک پیدل جانے کی کوشش کی تو مبینہ طور پر پولیس کے کچھ اہلکاروں نے انہیں زبردستی گاڑی میں بٹھانے کے کوشش کی تھی۔
اس کھینچا تانی کی تصاویر اور خبریں کچھ اخبارات میں شائع ہوئیں تو سپریم کورٹ کے سابق قائم مقام چیف جسٹس، جسٹس جاوید اقبال، نے واقعہ کا از خود نوٹس لیتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کے جج جسٹس اعجاز افضل کو تحقیقات پر مامور کیا تھا۔
دریں اثناء چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کرنے والی سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل کو چیلنج کرنے والی تمام درخواستوں کو یکجا کر کے ان کی سماعت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس سردار رضا خان کی سربراہی میں کام کرنے والے بینچ نے سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل کے حوالے سے بیرسٹر ظفر اللہ خان کی پٹیشن کی پیر کو سماعت شروع کی تو اسی نوعیت کی ایک اور پٹیشن دائر کرنے والے قانون دان ڈاکٹر فاروق حسن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کی پٹیشن کی سماعت بھی ایک ساتھ شروع کی جائے۔
جس پر عدالت نے حکم جاری کیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل کے حوالے سے دائر کی گئی تمام درخواستوں کو اکٹھا کر کے ان کی ایک ہفتے کے اندر مشترکہ سماعت کی جائے گی۔