Monday, 02 April, 2007, 20:30 GMT 01:30 PST
احمدرضا شیخ
کراچی
بلوچستان میں فوجی آپریشن میں ہلاک ہونے والے بلوچ قوم پرست رہنماء نواب اکبر بگٹی کی بہو اور سلیم بگٹی کی بیوہ رضیہ سلطانہ نے ان کی ملکیت پر مبینہ سرکاری قبضے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ کراچی میں آئینی درخواست دائر کی ہے۔
اس درخواست میں وزیر اعظم، وزیر اعلٰی سندھ، وفاقی وزارت دفاع اور داخلہ کے سیکریٹریوں، کور کمانڈر ، ہوم سیکریٹری، انسپکٹر جنرل پولیس، سانگھڑ اور نوابشاہ کی ضلعی ناظمین اور پولیس سربراہان کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ سانگھڑ اور نوابشاہ میں واقع ان کی 400 ایکڑ زرعی اراضی اور حویلی پر پولیس نے زبردستی قبضہ کرلیا ہے اور زمین پر کھڑی فصلیں بھی ہتھیالی ہیں۔
درخواست گزار کے مطابق زرعی آلات پر بھی پولیس کا قبضہ ہے اور عملاً انہیں ان کی جائداد سے بیدخل کردیا گیا ہے۔
اکبر بگٹی کی بہو نے عدالت عالیہ سے استدعا کی ہے کہ ان کا اپنی ملکیت پر قبضہ بحال کرایا جائے اور قابض پولیس اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل گزشتہ سال اکتوبر میں سٹیٹ بینک آف پاکستان نے رضیہ سلطانہ سمیت اکبر بگٹی کی دو بہوؤں کے اثاثے منجمد کردئیے تھے جن میں دوسری بہو ریحانہ بگٹی شامل تھی۔
سٹیٹ بینک نے اپنے حکم نامے میں اس اقدام کا جواز بتاتے ہوئے کہا تھا کہ ان دونوں خواتین کا تعلق بلوچستان لبریشن آرمی سے ہے جو ایک دہشتگرد تنظیم ہے۔ اس اقدام سے قبل اکبر بگٹی گھرانے کی ان دونوں خواتین کے بیرون ملک سفر پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
گزشتہ سال دسمبر میں جمہوری وطن پارٹی کے رہنما جمیل بگٹی نے الزام عائد کیا تھا کہ رینجرز کے اہلکاروں نے ضلع سانگھڑ میں ان کی زرعی زمین پر موجود سینکڑوں جانور نیلام کردئے ہیں۔ تاہم سندھ رینجرز کے ترجمان نے اس الزام کی تردید کی تھی۔