Sunday, 01 April, 2007, 13:27 GMT 18:27 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں مقامی قبائل اور غیرملکی شدت پسندوں کے درمیان وقفے وقفے سے جاری جھڑپوں میں سنیچر کی رات چھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
اس طرح انیس مارچ سے شروع ہونے والی اس لڑائی میں مجموعی طور پر لگ بھگ 200 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
اتوار کے روز جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا سے موصولہ اطلاعات کے مطابق قبائل اور ازبک شدت پسندوں کے درمیان کلوشہ، شین ورسک، شاہ غنڈی اور غوا خواہ کے مقامات پر وقفے وقفے سے تازہ جھڑپوں میں چھ افراد مارے گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والے مقامی جنگجوؤں کے سربراہ مولوی نذیر کے حامی بتائے جاتے ہیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ زیڑی نور کالونی میں تعینات پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی طرف سے شین ورسک کے علاقے پر گولہ باری کی گئی ہے تاہم سرکاری ذرائع نے اس کی تردید کی۔
ادھر یہ بھی اطلاعات ہیں کہ مولوی نذیر اور ان کے حامیوں کی جانب سے وانا میں مسجدوں سے اعلانات کیے جارہے ہیں جس میں مقامی قبائل کو کہا جارہا ہے کہ وہ ازبکوں کو علاقے سے نکالنے کے لیے گھروں سے باہر نکلیں۔
صدر مقام وانا میں ٹیلی فون ایکسچینج بدستور کئی روز سے خراب ہے جبکہ مقامی لوگ الزام لگاتے ہیں کہ حکومت جان بوجھ کر ٹیلی فون نظام درست نہیں کرنا چاہتی تاکہ جنوبی وزیرستان میں جاری کارروائیوں کی رپورٹنگ ذرائع ابلاغ میں نہ ہوں۔
مقامی قبائلیوں اور غیرملکی خصوصاً ازبک جنگجوؤں کے درمیان یہ جھڑپیں وانا کے مغرب میں ژہ غنڈئی، کلوشہ، اعظم ورسک اور شین ورسک کے علاقوں میں انیس مارچ کو شروع ہوئی تھیں تاہم بعد ازاں مقامی جرگے کی کوششوں کی وجہ سے عارضی جنگ بندی ہوئی تاہم چند دن کی عارضی جنگ بندی کے بعد یہ لڑائی دوبارہ شروع ہوگئی۔
مقامی جنگجوؤں کے سربراہ مولوی نذیر نے ان غیرملکیوں کو غیرمسلح اور علاقہ بدر کرنے تک جنگ جاری رکھنے کا اعلان کر رکھا ہے۔