Saturday, 31 March, 2007, 07:29 GMT 12:29 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں سنیچر کو مقامی اور غیرملکی شدت پسندوں کے درمیان جاری لڑائی میں دو لڑکیاں ہلاک ہوئی ہیں جبکہ حکام جمعہ کی رات گئے تک کی لڑائی میں چھپن افراد کی ہلاکت کا دعوٰی کر رہے ہیں۔
صدر مقام وانا سے موصولہ اطلاعات کے مطابق لڑائی کی شدت میں کل رات سے کمی آئی ہے تاہم ہفتے کی صبح وانا کے مغرب میں غواخواہ کے علاقے میں ایک مکان پر مارٹر گولہ گرنے سے دو لڑکیاں ہلاک ہوئی ہیں۔ یہ مکان ایک مقامی قبائلی قیمت خان سرکی خیل کا بتایا جاتا ہے۔
جمعہ کو بھی ایک موٹر سائیکل سوار عام قبائلی فریقین کی لڑائی میں مارا گیا تھا۔
یہ بھی اطلاعات ہیں کہ شین ورسک کے علاقے میں مبینہ طور پر پاکستانی سکیورٹی فورسز نے چند مورچوں پر کنٹرول حاصل کیا ہے جبکہ علاقے میں کشیدگی برقرار ہے۔
مقامی قبائلیوں اور غیر ملکی خصوصاً ازبک جنگجؤوں کے درمیان یہ جھڑپیں وانا کے مغرب میں دژہ غنڈئی، کلوشہ، اعظم ورسک اور شین ورسک کے علاقوں میں انیس مارچ کو شروع ہوئی تھیں تاہم بعدازاں مقامی جرگے کی کوششوں کی وجہ سے عارضی جنگ بندی ہوئی اور اب ایک ہفتے کی عارضی جنگ بندی کے بعد دوبارہ لڑائی شروع ہوگئی ہے۔
مقامی جنگجوؤں کے سربراہ مولوی نذیر نے ان غیرملکیوں کو غیرمسلح اور علاقہ بدر کرنے تک جنگ جاری رکھنے کا اعلان کر رکھا ہے۔