http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 31 March, 2007, 14:45 GMT 19:45 PST

احمدرضا شیخ
کراچی

قتل کے جرم میں موت کی سزا

کراچی میں قائم انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے ڈھائی سالہ رشتے دار بچی کو تاوان کی غرض سے اغوا کرکے قتل کرنے کے الزام میں ایک ملزم کو دو بار سزائے موت اور بھاری جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

بیس سالہ ملزم اسداللہ پر الزام تھا کہ اس نے اپنے پھوپھی زاد بھائی رحمت اللہ کی ڈھائی سالہ بیٹی لائبہ کو گزشتہ سال ستائیس اپریل کو نارتھ ناظم آباد میں اس کے گھر کے باہر سے اغواء کیا تھا اور اس کے والد سے موبائل فون پر رابطہ کرکے اپنی شناخت خفیہ رکھتے ہوئے 15 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا تھا لیکن بعد میں تین لاکھ روپے لینے پر رضامند ہوگیا تھا۔

اس دوران رحمت اللہ نے تیموریہ تھانے میں واقعے کا مقدمہ درج کرادیا تھا جس پر پولیس نے اغواء کنندہ کی تلاش شروع کردی تھی۔

واقعے کے اگلے دن ہی لائبہ کے والد نے فیڈرل بی ایریا کے علاقے میں اغواء کنندہ کے مطالبے پر ایک طے شدہ مقام پر اپنی گاڑی میں تاوان کے پیسوں کا پیکٹ چھوڑ دیا تھا جس کے بعد ملزم نے موبائل فون پر رابطہ کرکے انہیں بچی کے حصول کے لئے اسی علاقے میں واقع ٹی ایم سی گراؤنڈ جانے کا کہا تھا جہاں بچی کی لاش ایک تھیلے میں بند ملی تھی۔

پولیس نے ملزم کو اس کے موبائل نمبر کو ٹریس کرکے گرفتار کیا تھا جس سے اس نے بچی کے والدین سے رابطہ کیا تھا۔ ملزم لائبہ کے گھر کے سامنے ہی رہائش پذیر تھا وہ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھتا ہے اور نویں جماعت کا طالبعلم تھا۔

تفتیش کاروں کے مطابق اس نے بچی کو اغواء کرنے کے بعد اپنے گھر میں رکھا تھا اور گلہ گھونٹ کر مارنے کے بعد اسکی لاش اپنی کرکٹ کٹ کے بیگ میں بند کرکے اس گراؤنڈ میں پھینک دی تھی جہاں وہ کرکٹ کھیلا کرتا تھا۔

انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کراچی نمبر1 کے جج غلام علی اے سامتیو نے ہفتہ کو جرم ثابت ہونے پر ملزم کو دو بار سزائے موت کا حکم دیا جبکہ اسکی بیس لاکھ روپے مالیت کی جائداد ضبط کرنے اور 10 لاکھ روپے جرمانے کا حکم بھی دیا-