Wednesday, 28 March, 2007, 07:15 GMT 12:15 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے دارالحکومت میں دینی مدرسہ جامعہ حفصہ کی نقاب پوش طالبات نے ایک مبینہ بدکاری کے اڈے پر چھاپہ مار کر ایک خاتون کو حراست میں لے لیا ہے۔
دینی مدرسے کی طالبات اور طلباء نے آبپارہ مارکیٹ میں واقع ویڈیو شاپس کے مالکان کو تنبیہہ کی ہے کہ وہ عریانی اور فحاشی پھیلانے کا سبب بننے والی سی ڈیز کی فروخت بند کردیں۔
اس سے قبل اسی مدرسہ کی طالبات نے اسلام آباد میں بچوں کی ایک لائبریری ہر کئی دنوں تک قبضہ کیے رکھا تھا۔
طالبان طرز کی اس طرح کی اطلاعات صوبہ سرحد کے بعض دور دراز علاقوں سے تو پہلے ہی آتی رہتی تھیں لیکن وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اس طرح کا اقدام پہلی بار ہوا ہے۔
اس بارے میں جب جامعہ حفصہ کے نائب پرنسپل غازی عبدالرشید سے رابطہ کیا تو انہوں نے تصدیق کی اور کہا: ’ہمارے مدرسے کی طالبات اور طلباء نے اہل محلہ کی درخواست پر مبینہ بدکاری کا اڈہ بند کرام دیا ہے اور آنٹی شمیم کو مدرسے میں رکھا ہے‘۔
تاہم پولیس نے ابھی تک اس واقعہ پر تبصرہ نہیں کیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اہل محلہ بدکاری کے اڈے سے تنگ تھے اور کئی بار پولیس کو اس کی شکایت بھی کی لیکن متعلقہ خاتون کے بااثر ہونے کی وجہ سے ان کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی تھی۔
غازی عبدالرشید سے جب پوچھا کہ ان کے مدرسے کی طالبات نے کس اختیار کے تحت کارروائی کی تو انہوں نے کہا کہ یہ اسلامی ملک ہے اور اسلام کہتا ہے کہ برائی کو روکیں۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ مبینہ نائیکہ کو سمجھا رہے ہیں کہ فحاشی کا اڈہ بند کردیں اور مسلمان بھائی بہنوں کو برائی سے بچائیں۔
![]() |
اسلام آباد کے بعض شہریوں نے طالبان طرز کے اقدام پر سخت تشویش ظاہر کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے کارروائی نہیں کی تو ایسے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ جبکہ متعلقہ مبینہ فحاشی کے اڈے کے آس پاس کے کچھ رہائشیوں نے جامعہ حفصہ کی طالبات کی اس کارروائی کو سراہا ہے۔
جامعہ حفصہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ بدھ کی شام چار بجے آنٹی شمیم کے اہل محلہ لال مسجد میں نیوز کانفرنس کریں گے۔