Monday, 26 March, 2007, 15:05 GMT 20:05 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردوڈاٹ کام، اسلام آباد
قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں مقامی جنگجوؤں اور ازبک عسکریت پسندوں کے درمیان جنگ کو پاکستانی حکومت اپنی حکمتِ عملی کامیابی قرار دے رہی ہے اور جنگ بندی کے بعد علاقے میں کشیدگی کو ختم کرانے کے لیے افغانستان کے صوبہ ہلمند کے سابق گورنر اور طالبان رہنماء وانا پہنچ گئے ہیں۔
پیر کو ہفتہ وار پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے وزارت خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کا کہنا تھا اب امریکہ اور دیگر ممالک پر یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ مقامی قبائل کے ساتھ حکومت کے امن معاہدے کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔
جنوبی وزیرستان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق صوبہ ہلمند میں طالبان کے سابق گورنر نور محمد ثاقب اتوار کی رات کو وانا پہنچے ہیں جہاں انہوں نے مقامی جنگجوؤں اور ازبک عسکریت پسندوں کے درمیان مصالحت کرانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔
درایں اثنا جمیعت علماء اسلام سمیع الحق گروپ کے رہنماء مولانا نصیب اللہ اور شیر علی خان بھی نور محمد ثاقب کی معاونت کے لیے اس وقت جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں موجود ہیں۔ یہ دونوں رہنما مقامی طالبان کے امیر مولوی نذیر کے استاد رہ چکے ہیں۔
جنوبی وزیرستان میں مقامی طالبان اور ازبک عسکریت پسندوں کے درمیان پانچ دنوں تک جاری رہنے والی لڑائی میں حکومت کے مطابق ایک سو ساٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں ایک سو تیس ازبک شامل تھے جب کہ مقامی لوگ مرنے والوں کی تعداد تقریباً پینتیس بتا رہے ہیں۔
لڑائی کے دوران مقامی طالبان نے باسٹھ ازبک جنگجوؤں کے گرد محاصرہ قائم کیا تھا جو اب تک بر قرار ہے اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق محصور ازبک عسکریت پسندوں نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ اگر محاصرہ ختم کیا جاتا ہے تو وہ علاقے میں امن و امان واپس لوٹانے میں ہاتھ بٹاسکتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق جنوبی وزیرستان میں اس وقت لڑائی رک گئی ہے اور فریقین کے درمیان جنگ بندی پر عملدرآمد جاری ہے۔