Saturday, 24 March, 2007, 13:47 GMT 18:47 PST
جمشید بلوچ
ملتان
ملتان کی ایک مقامی عدالت نے ان انتیس لڑکوں کی ضمانت پر رہائی کا حکم دیا ہے جنہیں پولیس نےصدر جنرل پرویز مشرف کی تصویر والے اشتہاری بورڈ کو نقصان پہنچانے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔
گرفتار کیے جانے والے نوجوانوں کی عمریں پندرہ سے بائیس برس کےد رمیان تھیں۔ان لڑکوں پر الزام لگایا گیا کہ ان افراد نے قاسم باغ سٹیڈیم ملتان میں جمع ہو کر ’مشرف مردہ باد‘ کے نعرے لگائے اور سٹیڈیم میں نصب صدر مشرف کی تصویر پر پتھراؤ کیا۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ یہ لڑکے’ ایک مجمع کی شکل میں گراؤنڈ میں جمع ہوئے اور صدر مشرف مردہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے اور لوگوں کو نعرے بازی پر اکساتے ہوئے انہوں نے سٹیڈیم میں صدرِ پاکستان جنرل پرویز مشرف کے پوسٹر پر پتھراؤ کیا۔ بعد میں ان لوگوں کے ساتھ بائیس اور نوجوان شامل ہوگئے اور ان سب نے مل کر لوگوں کو نعرے بازی پر اکسایا اور صدرِ پاکستان جنرل پرویز مشرف کے پوسٹر کو روڑے مار کر نقصان پہنچایا‘۔
انہوں نے دعوٰی کیا کہ پولیس نے خانہ پری کے لیے بے گناہ لوگ پکڑے۔
گرفتار کیے جانے والے لڑکوں کے ورثاء کا بھی یہی کہنا ہے کہ ان کے بچے بےگناہ ہیں اور انہیں حراست میں لیا جانا غلط ہے۔گرفتار کیے جانے والے ایک لڑکے محمد محسن کے والد کا کہنا ہے ’میرا بیٹا سیر کرنے گیا تھا اور جب وہ واپس آ رہا تھا تو بھگدڑ کے دوران غلط فہمی میں پکڑا گیا‘۔ایک اور شخص محمد شفیع نے کہا’ میرا بیٹا سٹیڈیم کے باہر اپنے دوستوں کے ساتھ گنڈیریاں کھا رہا تھا کہ اسے پولیس نے پکڑ لیا‘۔