http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 23 March, 2007, 12:21 GMT 17:21 PST

رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

وزیرستان میں 130 غیر ملکی ہلاک

پاکستان کے صوبہ سرحد کے گورنر علی محمد جان اورکزئی نے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں جاری جھڑپوں میں ایک سو تیس 130 غیر ملکیوں کی ہلاکت اور تقریباً 62 کے گرفتار ہونے کی تصدیق کی ہے۔

جمعہ کوگورنر ہاؤس پشاور میں صحافیوں سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ قبائل جنگ وجدل سے تنگ آچکے ہیں اس لیے انہوں نے اب خود غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا ہے۔

جرگے کی میزبانی نہیں: مولوی نذیر
وانامیں لڑنے والے کون ہیں
جنوبی وزیرستان میں جنگ بندی
84 ازبکوں سمیت 110 افراد ہلاک

ان کا کہنا تھا کہ وزیرستان میں غیر ملکی مختلف علاقوں میں رہائش پذیر ہیں اور قبائلی ان کا پیچھا کر رہے ہیں جس کی وجہ سے لڑائی کافی پھیل گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جنوبی وزیرستان میں گزشتہ پانچ دنوں سے قبائل کے ساتھ جاری لڑائی میں ایک سو تیس ازبک جنگجو مارے جاچکے ہیں جب کہ پچیس سے تیس مقامی لوگ بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قبائل نے باسٹھ کے قریب غیر ملکیوں کو گرفتار بھی کیا ہے۔

گورنر نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی کہ غیر ملکیوں کو نکالنے کےلیے قبائلیوں کو حکومت نے اُکسایا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ قبائل اب روز روز کی لڑائی سے تنگ آچکے ہیں جب کہ ان جھڑپوں سے نہ صرف امن وامان کے مسائل پیدا ہوئے بلکہ علاقے میں تمام ترقیاتی کام بھی رک گئے ہیں جس کی وجہ سے اب قبائلیوں کو خود یہ احساس ہوگیا ہے کہ غیر ملکیوں کو ان کے علاقوں سے واپس چلے جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ تقریناً چار سو سے پانچ سو کے قریب غیر ملکی اب بھی وزیرستان میں موجود ہیں جن میں ازبکستان، چیچنیا اور عرب ممالک کے باشندے شامل ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں گورنر نے کہا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق ازبک جنگجوؤں کے کمانڈر طاہر یلدیشف پہلے علاقے میں موجود تھے لیکن اب نہیں ہیں۔