Friday, 23 March, 2007, 13:13 GMT 18:13 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
پاکستان کرکٹ بورڈ کے مستعفی ہونے والے چئیرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے کہا ہے کہ باب وولمر کے قتل میں پاکستان کرکٹ ٹیم کا کوئی کھلاڑی یا اہلکار ملوث نہیں جبکہ جمیکن پولیس کی طرف سے کھلاڑیوں سے جاری تفتیش ایک معمول کی کارروائی ہے۔
جمعہ کو پشاور میں صحافیوں سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر نسیم اشرف نے بتایا کہ جمیکا میں پاکستانی کھلاڑیوں اور آفیشلز پر کوئی پابندی نہیں، جو لوگ اس قسم کی افواہیں پھیلا رہے ہیں وہ ملک و قوم کے دشمن ہیں۔
انہوں نے کہا ’میری آج صبح خود جمیکا کے ایک اہم پولیس اہلکارسے بات ہوئی ہے جس میں انہوں نے مجھے یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان کے کسی کھلاڑی یا اہلکار پر نہ تو پاکستان جانے پر پابندی ہے اور نہ جمیکا میں ادھر ادھر جانے پر کوئی پابندی ہے ۔‘
ڈاکٹر نسیم اشرف نے وضاحت کی کہ پاکستانی کھلاڑیوں سمیت باب وولمر کے تمام ملنے والوں کی انگلیوں کے نشانات لیے گئے ہیں جو ایک معمول کی تفتیش کا حصہ ہے اور جس پر کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جمیکن پولیس کے مطابق اب یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ کوچ باب وولمر کو قتل کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ باب وولمر کی موت بورڈ اور کھلاڑیوں کےلیے ایک سانحہ ہے تاہم اس کے باوجود کھلاڑی ایک نئے جذبے سے کھیلے ہیں۔
واضح رہے کہ ورلڈکپ کرکٹ میں پاکستان کی آئرلینڈ کے ہاتھوں شرمناک شکست کے بعد کرکٹ بورڈ کے چیرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے اپنے عہدے سے استعفی دیا تھا تاہم اطلاعات کے مطابق صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے تاحال ان کا استعفی باضابط طورپر منظور نہیں کیا گیا ہے۔