Thursday, 22 March, 2007, 15:34 GMT 20:34 PST
رفعت اللہ اورکزئی اور عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں وکلاء تنظیموں کی طرف سے منعقدہ کنونشن نے حکومت کی جانب سے مذاکرات کی دعوت مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو فوری طورپر بحال کیا جائے ۔
صدر جنرل پرویز مشرف سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر صدارت سے الگ ہوجائیں جبکہ ملک میں انتخابات قوی اتفاقِ رائے سے قائم کی گئی حکومت کے تحت کرائے جائیں۔
پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور سرحد بار کونسل کی جانب سے منعقدہ اس کنونشن میں ملک بھر سے آئے ہوئے وکلاء کے نمائندوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی۔
پشاور ہائی کورٹ اور کنونشن ہال کو رنگ برنگے بینرز اور پلے کارڈز سے سجایا گیا تھا، جن پر نعرے تحریر تھے: گو مشرف گو، عدلیہ کی آزادی تک حکومت کی بربادی تک جنگ رہے گی جنگ رہے گی، آئین کو اصلی حالت میں بحال کرو، مستعفی ججوں کو سلام اور عدلیہ بچاؤ پاکستان بچاؤ۔
انہوں نے کہا کہ وکلاء کا پہلا مطالبہ غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی غیر مشروط بحالی اور ان کے ریفرنس کے پیچھے کارفرما ہاتھوں کا کڑا احتساب ہے۔
منیر ملک نے سیاسی جماعتوں پر بھی زور دیا کہ وہ حکومت کے خاتمے کے لیے پارلمینٹ سے مستعفی ہوجائیں اور وکلاء کی تحریک میں شامل ہو کر ان کا ساتھ دیں۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ’معطل‘ چیف جسٹس کے وکلاء قاضی محمد انور اور حامد خان نے کہا کہ جسٹس افتخار چوہدری نے راولپنڈی بار ایسوسی ایشن اور پشاور بار سے خطاب کرنے کی دعوت قبول کر لی ہے۔
جسٹس افتخار محمد چوہدری کی ’معطلی‘ کے خلاف بلوچستان میں جمعرات کو بھی وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا جبکہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں بلوچستان ہائی کورٹ اور بلوچستان اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر ہادی شکیل ایڈووکیٹ نے کہا کہ وکلاء عدلیہ کے وقار کی خاطر متحد ہیں اور اگر کوئی بھی وکیل احتجاج سے ہٹ کر عدالت میں پیش ہوگا تو اس کی رکنیت ختم کر دی جائے گی۔
ادھر قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال نے گزشتہ روز وکلاء کے جلوس پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج کے واقعے کے حوالے سے از خود لیے گئے نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے بلوچستان ہائی کورٹ کے جج جسٹس احمد خان لاشاری کو انکوائری جج مقرر کیا ہے، جنہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سات دنوں میں اپنی رپورٹ پیش کریں۔
بلوچستان کے چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل آف پولیس اور ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال کے سامنے پیش ہوئے۔