Thursday, 22 March, 2007, 17:54 GMT 22:54 PST
عملی طور پر معطل کر دیئے گئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف صدارتی ریفرنس پر ہونے والی سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کے حوالے سے ذرائع ابلاغ کو معلومات کی فراہمی کے لیے حکومت نے ایک وکیل عارف چودھری کو مقرر کیا ہے۔
وزارت قانون کی طرف سے جاری کیے گئے ایک پریس ریلیز کے مطابق میڈیا کو صدارتی ریفرنس کے حوالے سے اگر کوئی معلومات درکار ہو نگی تو عارف چودھری سرکاری وکلاء کی ٹیم کے ایک رکن کے طور پر یہ معلومات فراہم کریں گے۔
عارف چودھری کی وکالت کا ایک بڑا حصہ سرکاری اداروں کی قانونی مشاورت پر مبنی ہے۔ ان دنوں وہ کیپیٹل ڈویلیپمینٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اسلام آباد کے قانونی مشیر ہیں اور کہا جاتا ہے کہ وفاقی وزیر قانون وصی ظفر کے چیمبر کا بھی ان کے ساتھ اشتراک ہے۔
مبصرین کے مطابق موجودہ ’عدالتی بحران‘ میں حکومتی وزراء اور مشیر میڈیا کے سامنے صدارتی ریفرنس کے دفاع میں ناکام نظر آئے اور غالباً اسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے عارف چودھری کا انتخاب بطور ’لیگل سپِن ڈاکٹر‘ کے کیا گیا ہے۔
عارف چودھری کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتے ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عارف چودھری نے کہا کہ وہ عدلیہ کے معاملہ پر وکلاء کی تحریک کے خلاف نہیں ہیں اور خود بھی ہڑتال میں شریک رہے ہیں، لیکن بطور ایک پیشہ ور وکیل ان کا فرض ہے کہ وہ اپنے مؤکل کا نقطۂ نظر ایمانداری سے پیش کریں اور وہ چیف جسٹس کے خلاف صدارتی ریفرنس کے حوالے سے بھی حکومتی مؤقف کو بہتر انداز میں پیش کرنے کی کوشش کرینگے۔