Monday, 19 March, 2007, 14:08 GMT 19:08 PST
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے اعتراف کیا ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے بعد حکومت سے کچھ غلطیاں ہوئی ہیں۔
صدر کے مطابق انہوں نے معطل چیف جسٹس کی سرگرمیاں محدود کرنے اور پولیس تعینات کرنے کے بارے میں حکم نامے پر دستخط کرکے غلط کیا اور بعد میں انہوں نے خود ہی ان پر پابندیاں ختم کرنے کا حکم دیا۔
صدر جنرل پرویز مشرف نے یہ باتیں نجی ٹی وی چینل جیو کے سینئر صحافی کامران خان کو انٹرویو دیتے ہوئے کی ہیں۔
انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ صدر نے کہا ہے کہ وہ جسٹس افتخار محمد چودھری کے معاملے کی خود نگرانی کریں گے۔
ان کے مطابق صدر نے چیف جسٹس سے ملاقات میں انہیں یہ اختیار دیا تھا کہ وہ خود سے مستعفی ہوجائیں یا پھر ریفرنس کا سامنا کریں اور چیف جسٹس نے ریفرنس کا انتخاب کیا۔
صدر جنرل پرویز مشرف نے مزید کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس بھگوان داس چھٹی پر ہیں اور وطن پہنچنے پر انہیں قائم مقام چیف جسٹس بنا دیا جائے گا۔
صدر کے مطابق چیف جسٹس کے خلاف پہلی شکایت سید شریف الدین پیرزادہ لے کر آئے تھے اور اب وہ کسی تیکنیکی وجہ سے ان کے خلاف ریفرنس میں حکومت کی وکالت نہیں کر رہے۔
صدر جنرل پرویز مشرف نے انٹرویو میں یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان میں آئندہ عام انتخابات مقررہ وقت پر ہوں گے اور ملک میں ایمرجنسی نافذ نہیں ہوگی۔
کامران خان کے مطابق صدر نے کہا کہ معتدل اور ترقی پسند قوتیں متحد ہوکر حکومت بنائیں اور بینظیر بھٹو کے بارے میں پہلی بار صدر نے واضح اشارہ دیا کہ اب وہ بینظیر کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔