Monday, 19 March, 2007, 07:33 GMT 12:33 PST
قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ اسلام آباد پولیس کو چیف جسٹس کے ساتھ بدسلوکی کے سنگین الزامات کا سامنا ہے اور انہیں عدالت کو مطمئن کرنا ہوگا کہ پولیس انکوئری صاف اور شفاف انداز میں کی گئی ہے۔
پاکستان کے قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کے ساتھ پولیس کی بد سلوکی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے مقدمے کی سماعت کے دوران کہا کہ معاملہ کسی شخصیت کا نہیں بلکہ اعلی ترین عدالتی عہدے کی عزت اور وقار کا ہے۔
جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیشی کے لیئے پیدل آنے کی کوشش کی تھی لیکن اسلام آباد پولیس کے اہلکار انہیں گاڑی میں بیٹھانے کی کوشش کرتے رہے جس دوران پولیس نے مبینہ طور پر چیف جسٹس کے ساتھ بدسلوکی کا مظاہرہ کیا تھا۔
سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے مقدمے کی مختصر سماعت کے بعد اسے ایک روز کے لیے ملتوی کر دیا ہے اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کیا ہے کہ وہ منگل کو عدالت میں پیش ہوں۔
اسلام آباد پولیس کے انسپکٹر جنرل پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ان کی معلومات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کے ساتھ بدسلوکی نہیں کی گئی تھی۔
انسپکٹر جنرل افتخار چوہدری نے کہا کہ انہوں نے محمکمانہ انکوئری کا حکم جاری کر رکھا ہے لیکن اگر عدالت چاہے تو وہ وزارت داخلہ سے ان الزامات کی انکوائری کرنے کے لیے کہہ سکتی ہے۔
قائم مقام چیف جسٹس نے کہا ہے کہ ان کے پاس جو مواد موجود ہے اس کے مطابق یہ سنگین بدسلوکی کا مقدمہ ہے اور ذرائع ابلاغ میں ایک مخصوص پولیس اہلکار کا نام بھی آیا ہے جس نے چیف جسٹس کے ساتھ بدسلوکی کی۔
اسلام آباد پولیس کے سربراہ نے بتایا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق مذکورہ پولیس اہلکار اس موقع پر موجود ہی نہیں تھے۔
قائم مقام چیف جسٹس نےکہا کہ عدالت نہیں چاہتی کہ پولیس اس مقدمے کی انکوائری جلد بازی میں کرے لیکن پولیس کواس بات کی یقین دہانی کرانا ہوگی کہ پولیس انکوئری صاف اور شفاف انداز میں ہوگئی۔
قائم مقام چیف جسٹس نے کہا کہ چھوٹے ملازمین کے خلاف کارروائی کرنے سے معاملات حل نہیں ہوں گے۔
مقدمے کی سماعت منگل کو دوبارہ شروع ہوگی۔