Sunday, 18 March, 2007, 15:12 GMT 20:12 PST
عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی آئرلینڈ کے ہاتھوں شکست کے نتیجے میں ورلڈ کپ سے باہر ہوجانے پر کرکٹ کے شائقین نے غم و غصے کے ساتھ اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے۔
ملتان میں، جو پاکستان کے کپتان کا شہر ہے، ٹیم کی مایوس کن کارکردگی پر لوگوں نے انضمام الحق سے منسوب گراؤنڈ میں جمع ہوکر ان کے خلاف نعرے بازی کی اور باب وولمر اور ان کی برطرفی کا مطالبہ کیا ہے۔
ملتان کے نواں شہر چوک پر قد آدم بورڈ پر لکھا تھا ’دل بڑا کرو‘ لیکن دل جلے لوگوں نے اس پر کیچڑ مل دی ہے۔
حیدرآباد شہر میں بھی مظاہرہ ہوا جس میں نوجوانوں نے کرکٹ کا ’جنازہ‘ نکالا، پتلے اور کرکٹ کا سامان نذر آتش کیا۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اٹھارہ مارچ کا سورج طلوع ہونے سے قبل ہی پاکستانی کرکٹ کا سورج گہنا چکا تھا۔ اب اس اشتہار کا کیا ہوگا جس میں عمران خان ٹیم کے کھلاڑیوں کو سولہ کروڑ عوام کے دل جیتنے کی تلقین کر رہے ہیں۔
ایک شہری نے کہا: ’اس ٹیم کے لیے کچھ بولنا بھی فضول ہے‘۔
![]() | |
| جذباتی نوجوانوں نے کھلاڑیوں کے پوسٹر بھی نذر آتش کیے |
ایک جذباتی نوجوان کا کہنا تھا: ’انضمام یونس اور دوسرے بیٹسمینوں نے کوئی کارکردگی نہیں دکھائی صرف کولڈ ڈرنک بیچی ہے‘۔
ایک صحافی کہہ رہے تھے: ’میرے بچوں کو کرکٹ سے زیادہ دلچسپی نہیں ہے لیکن وہ بھی پاکستان کی شکست پر افسردہ تھے اور شیم شیم کہہ رہے تھے۔یہ بہت برا ہوا ہے‘۔
شکست پر سخت غصے میں دکھائی دینے والے ایک نوجوان نے کہا:’یہ ٹیم انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کے قابل نہیں ہے۔ اسے گلی محلے میں بچوں کے ساتھ ہی کرکٹ کھیلنی چاہیے‘۔
ورلڈ کپ کی تاریخ میں یہ پاکستان کی سب سے بدترین شکست ہے۔ اس سے قبل1999ء کے عالمی کپ میں اسے بنگلہ دیش نے ہرایا تھا جو اس وقت تک ٹیسٹ ٹیم نہیں تھی۔