Saturday, 17 March, 2007, 08:50 GMT 13:50 PST
پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنماء اور سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے کہا ہے کہ ملک میں جمہوریت کی بحالی پر امن سیاسی عمل کے ذریعے نہ ہوئی تو موجودہ عدالتی بحران قابو سے باہر ہو جائے گا۔
نیو یارک میں رائٹرز ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن کا کہنا تھا ’لوگوں میں بہت اضطراب پایا جاتا ہے اور عدالتی بحران نے عوام کی دکھتی رگ کو چھیڑا ہے، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ لوگ کتنے مایوس ہیں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے ان تمام قوتوں کو جو پاکستان کو مستحکم دیکھنا چاہتی ہیں ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا، تاکہ انتہا پسند عناصر کو پاکستان کے گلی کوچوں میں پائی جانے والی بے چینی کا فائدہ اٹھانے سے باز رکھا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا ’وہ (جنرل مشرف) اس لیے ناکام ہو رہے ہیں کیونکہ وہ عوام کی بجائے فوجی قوت پر انحصار کر رہے ہیں۔ وہ کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں جب فوج میں طالبان کے لیے ہمدردی پائی جاتی ہو‘۔
بے نظیر بھٹو کا کہنا تھا ’نائن الیون کے بعد طالبان کا خاتمہ کر دیا گیا تھا، انہیں شکست ہو گئی تھی، وہ بد دل تھے اور راہ فرار اختیار کیے ہوئے تھے۔ لیکن (پاکستان میں) جمہوریت بحال نہ کی گئی اور طالبان نواز قوتوں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع مل گیا اور وہ اب بہت نڈر ہو گئے ہیں‘۔
بے نظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ اگر رواں سال میں طالبان پر قابو نہ پایا گیا تو وہ پاکستان پر غلبہ پانے کی کوشش کریں گے۔
اپنے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف بھی انتہا پسندوں کی موجودگی کو اپنے فوجی اقتدار کی طوالت کے بہانے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔