http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 16 March, 2007, 08:10 GMT 13:10 PST

رفاقت علی اور اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

اسلام آباد کے راستے بند

سپریم جوڈیشل کونسل میں معطل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کے موقع پر اسلام آباد میں غیرمعمولی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔

وفاقی دارالحکومت کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے اور شہر میں داخل ہونے والے تمام راستوں پر پولیس اور رینجرز کی بھاری تعداد تعینات ہے جو اسلام آباد میں داخل ہونے والی تمام گاڑیوں کی تلاشی لے رہی ہے۔

چیف جسٹس کی معطلی: خصوصی ضمیمہ
جسٹس افتخار کی پیشی، اسلام آباد سِیل
احتجاج، گرفتاریاں: صدارتی ریفرنس کی سماعت آج

سپریم کورٹ کے ارد گرد اور اس کی عمارت سے ایک کے فاصلے تک بھی پولیس کی بھاری تعداد موجود ہے۔ ایوانِ جمہوریت یا کانسٹی ٹیوشنل ایونیو کو جانے والے تمام راستوں کو خاردار تار اور بڑی رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کر دیا گیا ہے۔

پارلیمان کے سامنے ڈی چوک کے پاس کنرکریٹ کے بھاری بلاکس رکھے گئے ہیں اور دو لفٹر کھڑے کردیے گئے ہیں۔ جبکہ اِسی سڑک پر پریڈ گراؤنڈ کے پاس ایک اور رکاوٹ پیدا کرتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔

حکومت کی جانب سے سخت اقدامات کی وجہ سے جہاں ٹریفک کے بے پناہ مسائل ہیں وہاں لوگ بھی شدید پریشان ہیں۔ بری امام کے گرد نواح میں رہنے والے لوگوں اور قائد اعظم یونیورسٹی کے سینکڑوں طلبا اور اساتذہ کو بھی دشواری کا سامنا ہے۔

سپریم کورٹ کی عمارت کے اوپر ہیلی کاپٹر بھی پرواز کرتے دیکھے گئے۔
ججوں کے مخصوص داخلی دروازے پر پنجاب پولیس سمیت بھاری نفری تعینات کی گئی ہے

ہمارے نامہ نگار ہارون رشید کے مطابق معطل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی رہائش گاہ کے باہر بھی پولیس کے بھاری تعداد موجود ہے۔ بلوچستان ہاؤس کے باہر پولیس نے ایک ناکہ قائم کر رکھا ہے۔

پولیس کی سختی اور رکاوٹوں کی وجہ سے وکلاء کو بھی شدید پریشانی اٹھانی پڑ رہی ہے۔ سابق اٹارنی جنرل قاضی فاروق اور بعض دیگر وکلاء اپنی گاڑیاں ایمبیسی روڈ پر پارک کرنے کے بعد ایک کلومیٹر تک پیدل چل کر سپریم کورٹ پہنچے۔

سپریم کورٹ کے باہر جمع ہونے والے وکلاء کی تعداد کم ہے اور ججز کے داخلے کے لیے مخصوص دروازے پر پنجاب پولیس سمیت بھاری نفری تعینات ہے۔ وکلاء اور صحافیوں کو ججز کے داخلے والے دروازے سے پولیس نے کافی دور ہٹا کر رکھا ہے۔