Friday, 16 March, 2007, 14:29 GMT 19:29 PST
ریاض سہیل اور عزیز اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی / کوئٹہ
اسلام آباد میں جیو ٹی وی چینل کے دفتر پر پولیس کے حملے کے خلاف کراچی میں صحافیوں نے احتجاجی جلوس نکالا اور کوئٹہ میں بلوچستان اسمبلی سے صحافیوں نے واک آؤٹ کیا۔
پولیس حملے کے خلاف کراچی میں صحافیوں نے گورنر ہاؤس تک مارچ کیا۔ صحافیوں کے بازوں پر سیاہ پٹیاں بندھی ہوئی تھیں اور وہ’فوجی بوٹوں کی جھنکار نہیں چلے گی‘، ’لاٹھی گولی کی سرکاری نہیں چلے گی‘ اور آزادی صحافت کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔
گورنر ہاؤس کے باہر دھرنا دیا گیا جس میں جیو کے ملازمین کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہوگئی۔
صحافیوں سے کراچی یونین آف جرنلسٹ کے صدر شمیم الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جیو کے خلاف جو کارروائی ہوئی ہے اس سے پہلے ایسا محسوس کیا جا رہا تھا کہ حکومت اپنی کارروائیوں سے دوسروں کو آگاہ نہیں رکھنا چاہتی۔
شمیم رحمان کا کہنا تھا کہ اگر آزادی صحافت کی طرف کوئی بھی قدم اٹھے گا تو اس کی مزاحمت کی جائے گی۔
حیدرآباد سے بی بی سی کے نامہ نگار علی حسن کے مطابق حیدرآباد اور سکھر میں بھی صحافیوں نے احتجاجی جلوس نکالے۔ حیدرآباد میں صحافیوں نے منہ پر سیاہ پٹیاں باندھی ہوئی تھیں اور وہ زبان بندی نامنظور کے نعرے لگا رہے تھا۔
کوئٹہ میں اسمبلی کا بائیکاٹ
کوئٹہ میں صحافیوں نے پولیس کے تشدد اور جیو کے دفتر میں پولیس کی توڑ پھوڑ کے خلاف بلوچستان اسمبلی سے واک آؤٹ اور اسمبلی کےباہر مظاہرہ کیا۔
بلوچستان اسمبلی میں صحافی ان واقعات کے خلاف واک آؤٹ کرتے ہوئے باہر نکل آئے اور اسمبلی کے گیٹ پر نعرہ بازی کی۔ قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ اور اپوزیشن کے دیگر ارکان گیٹ پر صحافیوں سے یکجہتی کے لیے پہنچ گئے اور صحافیوں کو ایوان میں لے کر آئے لیکن اس وقت کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔
اس کے بعد اپوزیشن چیمبر میں حزب اختلاف کے قائدین نے اخباری کانفرنس میں صحافیوں پر تشدد کی مذمت کی ہے۔
ادھر مجلس عمل مسلم لیگ نواز اور تحریک انصاف کے مشترکہ جلسۂ عام میں صحافیوں پر تشدد اور جیو کے دفتر میں پولیس کی توڑ پھوڑ کے خلاف قرار منظور کی گئی ہے۔
ادھر جعفر آباد اور ڈیرہ مراد جمالی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق صحافیوں نے پولیس تشدد کے خلاف مظاہرے کیے ہیں اور حکومتی کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔