Thursday, 15 March, 2007, 15:20 GMT 20:20 PST
رفاقت علی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
صدر پرویز مشرف کی طرف سے چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کی کامیابی کا انحصار چند سرکاری افسران کے حلف ناموں پر ہو گا۔
جنرل مشرف کی طرف سے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف دائر ریفرنس کو ابھی تک خفیہ رکھا گیا ہے اور سپریم جوڈیشل کونسل کے ممبران اور چند حکومتی وکلاء کے علاوہ کسی کو اس ریفرنس کی تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں۔
تحریری ثبوتوں کی عدم موجودگی میں حکومتی وکلاء سرکاری افسران کو بطور گواہ پیش کریں گے اور وہ اپنے حلفیہ بیان میں سپریم جوڈیشل کونسل کو بتائیں گے کہ انہوں نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے کہنے پر ان کے بیٹے کی ترقی کے احکامات جاری کیے ہیں۔
جسٹس افتخار محمد چودھری کے بیٹے ڈاکٹر ارسلان صوبائی محکمہ صحت میں ملازم تھے جہاں سے ان کو فیڈرل انویسٹگیش ایجنسی (ایف آئی اے) میں تعینات کیا گیا اور بعد میں ان کو سپرنڈنٹ پولیس کے طور تربیت دلائی گئی۔
صدراتی ریفرنس کے دائر کیے جانے کے بعد سرکاری میڈیا ایڈوکیٹ نعیم بخاری کے کھلے خط کو صدراتی ریفرنس کے اہم نکات کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
نعیم بخاری کے خط میں جن چار افراد کا نام ہے وہ تمام اس کے مندرجات سے متفق ہونے کی تردید کر چکے ہیں جن کو اب حکومت گواہ کے طور پر بلانے کا خطرہ مول نہیں لے گی۔
سرکاری ملازم بطور گواہ |
حکومت کے پاس جسٹس افتخار محمد چوہدری کی طرف سے کوئی ایسی تحریری ثبوت موجود نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو ترقی دلانے کے لیے حکومت کو کہا تھا۔
سرکاری ملازمین کو بطور گواہ پیش کر کے جسٹس افتخارمحمد چودھری کو ان کےعہدے سے برطرف کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ہیلی کاپٹروں اور سرکاری جہاز کو استعمال کرنے کے الزام کو ثابت کرنے کے لیے وزیراعلیٰ سندھ کو بطور گواہ پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
صدرجنرل مشرف کی طرف سے جسٹس افتخار کے خلاف ریفرنس دائر ہونے کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ نے متعدد پریس کانفرنسوں کا انعقاد کر کے صدراتی الزامات کی تائید کی ہے اور کہا کہ اگر ان کو بلایا گیا تو وہ سپریم جوڈیشل کونسل کو بتائیں گے کہ چیف جسٹس نے انہیں مجبور کیا تھا کہ وہ انہیں ہیلی کاپٹر مہیا کریں۔