Thursday, 15 March, 2007, 14:29 GMT 19:29 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس ایک آئینی معاملہ ہے لیکن بعض لوگ اسے سیاسی رنگ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔
جمعرات کی صبح گوجرانوالہ کے جناح سٹڈیم میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جنرل مشرف نے کہا کہ وہ عدلیہ کا احترام کرتے ہیں اور اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ یہ کیس کبھی سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس نہ بھیجتے انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں مکمل انصاف کیا جائے گا۔
صدر مشرف نے کہا کہ ان کے ہونٹ سلے ہوئے ہیں لوگ حقیقت نہیں
جانتے اور فی الوقت وہ خود بول نہیں سکتے۔
انہوں نے کہا کہ جونہی سپریم جوڈیشل کونسل فیصلہ سنائے گی وہ اسی رات قوم کو ٹی وی پر اس سے آگاہ کریں گے اور سیاسی مفادات حاصل کرنے والے عناصر کا پول کھول دیں گے۔
صدر مشرف نے دعویٰ کیا کہ وکیلوں کی اکثریت ان کی حامی ہے انہوں نے کہا کہ اسلام آْباد روالپنڈی میں چار ہزار وکیلوں میں سے ڈیڑھ دو سو کو ٹی وی چینل پر لوگوں نے دیکھا ہے جبکہ لاہور کے تیرہ ہزار وکیلوں میں صرف ڈھائی سو وکیل سڑک پر آئے۔ صدر کے بقول سڑک پر نہ آنے والے باقی تمام وکیل ان کے حامی ہیں اور وکیلوں کی بھر پور حمایت پر وہ ان کے شکرگزار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی پاکستان کو دیمک کی طرح کھا رہی ہے ،جہاد کے نام پر بعض تنظیموں نے میڑک میں پڑھنے والے نوجوانوں کو ورغلایا اور ان لاپتہ افراد کو ذرائع ابلاغ میں ایشو بنایا جاتا رہے۔
صدر مشرف نے اس تاثر کوغلط قرار دیا کہ کہ انہیں حکومت نے غائب کر رکھا ہے اور کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ خود گھروں سے گئے ہیں اور پندرہ کو تو حکومت نے بازیاب کرایا جبکہ باقی افغانستان عراق اور نجانے کہاں کہاں چلے گئے ہیں۔
صدر جنرل مشرف نے صوبائی وزیر ظل ہما کے قتل پر افسوس کا اظہار کیااور کہا کہ ایک پاگل آدمی نے انہیں مذہب کے نام پر قتل کیا ہے۔
انہوں نے اس موقع پر گوجرانوالہ میں بجلی کے پانچ سو کلو واٹ کے سب سٹیشن کا سنگ بنیاد رکھا اور علاقے کے لیے ترقیاتی کاموں کا اعلان بھی کیا۔
پرویز مشرف نے کہا کہ عام انتخابات اسی سال کے اختتام پر ہوں گے اور عوام ان کے حامیوں کو کامیاب کرائیں۔
جلسہ عام سے وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویز الہی اور دیگر صوبائی وزراء نے بھی خطاب کیا۔
صدر جنرل پرویز مشرف پنڈال کے سامنے ہیلی کاپٹر سے اترے تھے لیکن پورے شہر میں سیکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے تھے۔ شہر میں مقامی تعطیل کی گئی تھی اور جلسہ گاہ کے اردگرد کے تمام بازار پہلے بند کرادیے گئے تھے۔
گوجرانوالہ میں میں جگہ جگہ صدرمشرف کی بڑی تصویریں اور خیر مقدمی بینر لگائے گئے تھے۔