http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 13 March, 2007, 23:59 GMT 04:59 PST

ذوالفقار علی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، مظفرآباد

بیروزگاری کے باعث خود کشی

پاکستان کے زیر ِانتظام کشمیر کے زلزلے سے متاثرہ علاقے میں پولیس کا کہنا ہے کہ ایک نوجوان نے بے روزگاری سے تنگ آکر خود کشی کرلی ہے۔ اس واقعہ کے بعد باغ میں یہ مطالبہ زور پکڑ گیا کہ امدادی ادارے مقامی مردوں کو زیادہ سے زیادہ ملازمتیں فراہم کریں۔

بے روزگاری میں اضافہ: رپورٹ

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں زلزے سے متاثرہ علاقے باغ شہر کے نوجوان دانش آزاد نے پولیس کے مطابق پیر کی صبح ریوالور سے اپنے سر میں گولی ماری اور شدید زخمی ہوگیا۔ بعد میں وہ اسی روز اسلام آباد کے ایک ہسپتال میں چل بسا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دانش کے گھر والوں کی طرف سے درج کرائی گئی روپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دانش بے روزگاری کی وجہ سے پریشان تھا اور تنگ آکر اس نے خود کشی کی۔

اس مبینہ خود کشی کی باز گشت منگل کو باغ میں ہونے والے ایک جلسے میں سنائی دی جہاں بے نظیر بھٹوں کی پیپلز پارٹی کے رہنما اور کشمیر کے اس علاقے کی قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سردار قمرالزماں نے ہزاروں لوگوں کے مجمعے سے خطاب کرتے ہوئے امدادی تنظیموں سے کہا کہ وہ مقامی مردوں کو زیادہ سے زیادہ ملازمتیں فراہم کریں۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں کام کرنے والی امدادی تنظیمیں مقامی خواتین کو ترجیحی بنیادوں پر ملازمتیں دیتے ہیں اور بھاری معاوضوں پر مردوں کو پاکستان کے دوسرے علاقوں سے یہاں لایا جاتا ہے اور مقامی مردوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔

قمرالزماں کو مقامی خواتین کی نوکریوں پر اعتراض نہیں ہے لیکن ان کا موقف یہ ہے کہ جہاں امدادی تنظیمیں مقامی خواتین کو نوکریاں فراہم کرتی ہیں وہیں وہ مقامی مردوں کو بھی ملازمتیں دیں۔

قائد حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ جو امدادی تنظیمیں مقامی خواتین کے ساتھ ساتھ مقامی کشمیری نوجوان مردوں کو نہیں رکھیں گی انہیں ایک ماہ کے بعد باغ سے باہر نکال دیا جائے گا۔

انہوں نے باغ شہر میں ہونے والی مبینہ خودکشی کا ذمہ دار بلاواسطہ طور پر امدادی تنظیموں کو ٹھہرایا اور کہا کہ اگر خودکشی کرنے والے نوجوان کو نوکری ملی ہوتی تو آج اس کے گھر میں ماتم نہ ہوتا۔

بعض امدادی تنظیمں کہتی ہیں کہ انہوں نے زیادہ تر مقامی مرد بھرتی کیے ہیں لیکن اقوام کی اداروں کے ساتھ ساتھ بعض ایسی ملکی اور غیر ملکی امدادی تنظیمیں ہیں جن میں کام کرنے والے غیر مقامی مرد زیادہ ہیں اور وہ یہ ادارے دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کو میرٹ پر بھرتی کیا گیا ہے۔