Tuesday, 13 March, 2007, 14:49 GMT 19:49 PST
عزیزاللہ خان، رفعت اللہ اورکزئی، ذوالفقار علی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معطلی کے خلاف پاکستان کے کئی شہروں اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر مظفر آباد میں وکلاء کا احتجاج منگل کو بھی جاری رہا۔
مختلف وکلاء تنظیموں کے مطالبے پر ملک کے چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں احتجاج کے طور پر وکلاء نے عدالتی کام کا مکمل بائیکاٹ کیا۔
کوئٹہ میں بیشتر کاروباری مراکز بھی بند رہے جبکہ وکلاء نے یوم سیاہ منایا اور بلوچستان کے دیگر شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ سیاسی قائدین نے احتجاجی جلسوں سے خطاب کیا۔
پشاور میں بھی احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا اور عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا جبکہ چیف جسٹس کے خلاف متنازعہ خط لکھنے پر نعیم بخاری کی سرحد کی عدالتوں میں داخلے پر پابندی کا اعلان بھی کیا گیا۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں بھی کشمیری وکلاء نے افتخار محمد چودھری کی معطلی کے خلاف عدالتوں کا بائیکاٹ اور احتجاجی مظاہرہ کیا۔
مظاہرین نے پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کا پتلا اٹھا رکھا تھا جس کو خاکی وردی پہنائی گئی تھی۔ ایک مرحلے پر مظاہرین نے اس پتلے کو جوتوں سے پیٹا اور بعد ازاں وردی اتار کر اس کو نذر آتش کردیا گیا۔
کوئٹہ میں ہڑتال پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کی اپیل پر کی گئی اور اس موقع پر تمام اہم کاروباری مراکز اور دکانیں بند رہیں تاہم کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ہادی شکیل ایڈووکیٹ نے کہا کہ وکلاء کا احتجاج جاری رہے گا اور بدھ کو وکلاء جلوس نکالیں گے۔
وردی اتار کر پتلا نذر آتش مظاہرین نے پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کا پتلا اٹھا رکھا تھا جس کو خاکی وردی پہنائی گئی تھی۔ ایک مرحلے پر مظاہرین نے اس پتلے کو جوتوں سے پیٹا اور بعد ازاں وردی اتار کر اس کو نذر آتش کردیا گیا۔ |
منگل کو پشاور کی عدالتوں میں مقدمات کی پیروی درخواست گزاروں نے خود کی جبکہ وکلاء عدالتوں کے دروازوں پر کھڑے رہے اور مقدمات کی پیروی کے لیے آنے والے دیگر وکلاء کو اندر جانے سے منع کرتے رہے۔
سرحد اسمبلی کے سامنے پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدور کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ وکلاء نے ہاتھوں پر سیاہ پٹیاں باندھی ہوئی تھیں اور پلے کارڈز اور بینر اٹھا رکھے تھے جن پر حکومت اور صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے اس موقع پر صدر مشرف کے خلاف اور چیف جسٹس کے حق میں نعرہ بازی کی گئی۔
![]() | |
| مظفر آباد میں مظاہرے کے دوران صدر مشرف کا پتلا بھی نذر آتش کیا گیا |
پشاور پریس کلب میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سرحد بار کونسل کے نائب چیئرمین نے کہا کہ پاکستان بارکونسل کی جانب سے اٹھائے گئے تمام اقدامات پر نہ صرف عمل کیا جائے گا بلکہ جو وکلاء قانون اور عدل کی بحالی اور موجودہ جدوجہد کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوں ان کو وکلاء برادری سے خارج کیا جائے گا۔
کوئٹہ میں پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے زیر انتظام ایک جلسہ بھی کیا گیا جس میں دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی۔
مظفرآباد سنڑل بار ایسوسی ایشن کے صدر خواجہ مقبول وار نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس کو معطل کرنا غیر آئینی، غیر جمہوری اور غیر قانونی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ چیف جسٹس کو فوری طور پر اپنے عہدے پر بحال کیا جائے اور فوج غیر آئینی اقدامات سے پرہیز کرے۔ جنوبی ضلع راولاکوٹ اور بعض دوسرے علاقوں میں بھی وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور مظاہرے کیے۔