Tuesday, 13 March, 2007, 12:26 GMT 17:26 PST
ریاض مسرور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں غیر متوقع طور پر بھاری برفباری سے زندگی مفلوج ہوگئی ہے۔ کشمیر کو ہندوستان کے ساتھ ملانے والی واحد شاہراہ پر واقع جواہر ٹنل پر قد آدم برف جمع رہنے کی وجہ وادی باقی دنیا سے کٹ کر رہ گئی ہے۔
مختلف حادثات میں ایک شہری کی موت واقع ہوگئی جبکہ املاک کوبھی نقصان پہنچا۔ وادی میں حکومت نے ہنگامی صورتحال کا اعلان کر دیا ہے۔ تعلیمی اداروں میں ایک ہفتے کی تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ تعلیمی ادارے یکم مارچ کو حسبِ معمول اڑھائی ماہ کی سرمائی تعطیلات کے بعد کھُل گئے تھے۔
وادی کے اضلاع کے درمیان ٹریفک نظام بری طرح سے متاثر ہے جبکہ ہوائی اڈے کی رن وے پر برف جمع رہنے کی وجہ سے تمام پروازیں منسوخ کر دی گئیں ہیں۔
حکومت نے ایک سینئر وزیر محمد دلاور میر کو صورتحال سے نمٹنے والے خصوصی سیل کا انچارج بنا دیا ہے۔
دلاور میر نے جموں سے بی بی سی کو فون پر بتایا: ’ہم تمام امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں اور سارے متعلقہ محکمہ جات کو ہنگامی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رکھا گیا ہے‘۔
برفباری کی وجہ سے پوری وادی میں ضروری چیزوں کی قلت اور ٹریفک نظام کی ابتری سے عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔
تاخیر سے ہونے والی اس برفباری کے بعد جب منگل کی دوپہر کو مطلع صاف ہوا تو کھلکھلاتی دھوپ میں لوگوں کو جھومتے ہوئے دیکھا گیا ۔کشمیر کی ثقافت کا خوبصورت حصہ ’شینہ جنگ‘ یعنی برف کے لتھڑوں سے لڑنا ایسا نظارہ تھا جس میں لوگوں کو وہ مصائب پل بھر کے لیے بھول گئے جو یہ برفباری اپنے ساتھ لائی ہے۔