http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 13 March, 2007, 07:22 GMT 12:22 PST

رفاقت علی، اعجاز مہر، رفیہ ریاض
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

منصفوں پر اعتراض، سماعت ملتوی

سپریم جوڈیشل کونسل میں ’معطل‘ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت جمعہ تک ملتوی ہوگئی ہے۔

سپریم کورٹ کے بند کمرے میں جب منگل کو صدارتی ریفرنس کی سماعت ہوئی تو جسٹس افتخار چودھری نے سپریم جوڈیشل کونسل کے تین اراکین پر اعتراضات کیے جس جواب کے لیے سماعت جمعہ کی سہہ پہر تین بجے تک ملتوی کر دی گئی۔

سپریم کورٹ کے باہر کیا ہوا
چیف جسٹس کی معطلی: خصوصی ضمیمہ
جسٹسں افتخار کی سپریم کورٹ آمد
جسٹس افتخار کا ’استعفے سے انکار‘
’عدليہ کی يرغمالی مہنگی پڑ سکتی ہے‘،رائے دیں
سندھ پولیس کے افسران وزیرِ اعلیٰ سمیت اسلام آباد میں

بند کمرے میں ہونے والی کارروائی میں شامل ہونے والے وکیل طارق محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ جسٹس افتخار چوہدری نے سپریم جوڈیشل کونسل کے تین ممبران پر اعتراض کیا اور کہا انہیں ان پر اعتماد نہیں ہے۔

جن ججوں پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اعتراض کیا ان میں سپریم جوڈیشل کونسل کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور جسٹس چوہدری افتخار حیسن شامل ہیں۔ چیف جسٹس کی طرف سے پانچ وکلاء نے پیروی کی جن میں سپریم کورٹ بار کے صدر منیر ملک ،حامد خان، بیرسٹر اعتزاض احسن اور طارق محمود شامل تھے۔

اٹارنی جنرل مخدوم علی خان نے سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش ہو کر بتایا کہ وہ عدالتی نوٹس پر آئے ہیں اور اب جبکہ کونسل نے اس معاملے میں حکومت کو نوٹس جاری کر دیا ہے تو ممکن ہے کہ حکومت کوئی نیا وکیل مقرر کرے۔

سپریم کورٹ کے باہر منگل کی صبح ہی سے سکیورٹی کے زبردست انتظامات کیے گئے تھے اورسماعت کے آغاز پر رینجرز یا نیم فوجی دستوں نے اسلام آباد میں پوزیشنیں سنبھال لی تھیں۔

سماعت کے لیے جسٹس افتخار کو زبردستی سرکاری گاڑی میں سپریم کورٹ تک لایا گیا۔ سرکاری گاڑی میں جانے سے ان کے انکار کے بعد کشمکش کے دوران چیف جسٹس کے کپڑوں کو بھی کھینچا گیا۔ جسٹس چودھری کے ساتھ کچھ وکلاء اور صحافی بھی سپریم کورٹ کی عمارت میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے ۔

جب جسٹس افتخار کو سرکاری گاڑی میں سپریم کورٹ تک پہنچایا گیا تو وکلاء کی بڑی تعداد نے گاڑی کو گھیرے میں لے لیا۔ بعد میں وکیلوں نے جسٹس افتخار چودہری کو کندھوں پر بٹھا لیا اور سپریم کورٹ کے دروازے تک لے گئے۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق سپریم کورٹ کے بعد وکلاء نے چیف جسٹس کو پولیس کی تحویل سے نکال کر اپنے ’حصار‘ میں لے لیا۔ اس موقع پر اپوزیشن جماعتوں کے کارکنوں نے بھی وکلاء کا ساتھ دیا۔

وکلاء نے جسٹس افتخار کے حق میں اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا مقدمہ کھلی عدالت میں چلایا جائے۔ اپوزیشن کی جماعتوں کے رہنما بھی سپریم کورٹ کے باہر موجود رہے اور انہوں نے بھی وکلاء کا ساتھ دیا۔

اسلام آباد سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ کے اردگرد کے علاقے میں انتہائی سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ پارلیمنٹ لاجز، ججز کالونی اور دیگر مقامات پر پولیس کا پہرہ ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد ہی کے دیگر علاقوں سے عدالتِ عظمیٰ کی طرف آنے والے وکلاء کو پولیس آگے بڑھنے سے روک رہی ہے۔

پیر کی رات وزیرِ اطلاعات محمد علی درانی نے ان اطلاعات کی تصدیق کی تھی کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے ذرائع ابلاغ کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے بارے میں ریفرنس کے حوالے سے رپورٹنگ اور تبصرے نہ کرنے کی ’ایڈوائس‘ جاری کی ہے۔

گزشتہ روز جسٹس چودھری کی معطلی کے خلاف پاکستان کے چاروں صوبوں میں وکلاء نے زبردست احتجاج کیا تھا اور لاہور میں احتجاجی مظاہرے پر پولیس کے لاٹھی چارج سے متعدد وکلاء زخمی ہوگئے تھے۔

مختلف وکلاء تنظیموں کے مطالبے پر ملک کے چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں احتجاج کے طور پر وکلاء نے عدالتی کام کا مکمل بائیکاٹ بھی کیا تھا اور منگل کو احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔
اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے راستے میں پولیس نے خاردار تاریں لگا کر رکاوٹیں کھڑی کردیں

وکلاء کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کی جماعتوں نے بھی ایک ہنگامی اجلاس کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف کے اقدام کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ منگل کو جب جسٹس افتخار چودھری کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں زیرِ سماعت ہوگا تو اپوزیشن کے رہنما سپریم کورٹ تک احتجاجی واک کریں گے۔

وکلاء نے بھی منگل کو مختلف احتجاجی مظاہروں اور عدالتی کارروائی میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ کوئٹہ میں وکلاء کے نمائندوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ منگل کو ’یومِ سیاہ‘ کے موقع پر ہڑتال کریں۔