http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 12 March, 2007, 23:52 GMT 04:52 PST

ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

وزیرستان: طالبان میں کشیدگی کم

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان سے اطلاعات ہیں کہ مصالحتی کوششوں کی کامیابی کی وجہ سے غیرملکی شدت پسندوں اور مقامی قبائلیوں کے درمیان کشیدگی فی الوقت ختم ہوگئی ہے۔

کالے شیشوں پر طالبان کی پابندی

تاہم ذرائع کے مطابق شمالی وزیرستان میں میر علی کے علاقے میں گاڑیوں سے سیاہ شیشے ہٹانے کے معاملے پر کشیدگی بدستور قائم ہے۔

جنوبی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ سے تقریبا بارہ کلومیٹر مغرب میں اعظم ورسک کے علاقے میں گزشتہ دنوں غیرملکی جنگجوؤں اور مقامی قبائلی سردار سعد اللہ خان کے ساتھیوں کے درمیان مسلح تصادم میں اٹھارہ افراد ہلاک جبکہ ایک درجن کے قریب زخمی ہوئے تھے۔

ہلاک ہونے والوں میں اکثریت غیرملکیوں کی بتائی جاتی ہے۔ ان غیر ملکی شدت پسندوں نے مخالفین کے چھ افراد کو یرغمال بھی بنا لیا تھا۔ ان میں سے تین کو جلد ہی رہا کر دیا گیا تھا۔

مقامی قبائلی عمائدین نے فریقین میں مصالحت کی کوشش کی جو کامیاب رہی۔ غیرملکیوں نے اپنے مورچے خالی کر دیے ہیں اور تین یرغمالی بھی رہا کیے۔

سیاہ شیشوں کا تنازع
 مقامی طالبان کے سربراہ مولانا گل بہادر نے گزشتہ دنوں جرائم پیشہ افراد اور سیاہ شیشوں کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے یہ پابندی عائد کر دی تھی۔ لیکن اطلاعات کے مطابق غیرملکی شدت پسند اس سے متفق نہیں تھے
 

تاہم شمالی وزیرستان سے موصول اطلاعات کے مطابق وہاں غیرملکیوں اور مقامی شدت پسندوں کے درمیان گاڑیوں سے سیاہ شیشے ہٹانے کے مسئلے پر کشیدگی پائی جاتی ہے۔

مقامی طالبان کے سربراہ مولانا گل بہادر نے گزشتہ دنوں جرائم پیشہ افراد اور سیاہ شیشوں کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے یہ پابندی عائد کر دی تھی۔ لیکن اطلاعات کے مطابق غیرملکی شدت پسند اس سے متفق نہیں تھے۔

آخری اطلاعات تک معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔