ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی بار کے صدر افتخار جاوید قاضی نے جسٹس بھگوان داس کو درخواست کی ہے کہ وہ اپنا دورہ مختصر کرکے پاکستان آجائیں تاکہ وہ اپنی ذمہ داری سنبھال سکیں۔
سٹی کورٹ سے وکلا نے سندھ ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن اور کراچی بار ایسوس ایشن کے رہنماؤں کی قیادت میں احتجاجی جلوس نکالا جس نے ایم اے جناح روڈ پر مارچ کیا اور دھرنا دیا۔
وکلاء نے بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھی ہوئی تھیں ، ہاتھوں میں چیف جسٹس کی تصاویر اور بینر اٹھائے ہوئے تھے، اور وہ جنرل مشرف اور ارباب غلام رحیم کے خلاف اور چیف جسٹس کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔
رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ آج بھی افتخار محمد چوھدری چیف جسٹس ہیں جب ادارے کے ایک سربراہ کے ساتھ ایسا رویہ رکھا گیا ہے۔ جو ان کے بعد آتے ہیں اور جو ماتحت عدالتوں کے جج ہیں ان کو بھی خطرات لاحق ہیں۔
احتجاجی اجتماع کو وکلا تنظیموں کے رہنماؤں افتخار جاوید قاضی، اختر حسین، شیخ مجیب الرحمان ، شہادت اعوان، سلیم ضیا، سابق جسٹس ابو الانعام اور دیگر نے خطاب کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ عام آدمی اور وزراء قانون سے اتنے باخبر نہیں ہیں جتنا وکیل ہوسکتے ہیں، یہ درست ہے کہ صدر چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس بھیج سکتا ہے، مگر کوئی باوردی صدر چیف جسٹس کو قید نہیں رکھ سکتا ہے اور نہ اس کے گھر کو سب جیل بنا سکتا ہے ۔
وہ اس وقت سخت ڈپریشن میں ہیں وہ عوام کو کیا انصاف فراہم کریں گے پاکستان کے عوام صرف اور صرف انصاف کے لئے عدلیہ کی طرف دیکھتے ہیں کسی فوجی، یا پولیس کی طرف نہیں دیکھتے۔
انہوں نے کہا کہ جب انصاف کا ادارہ تباہ ہوجائے تو عوام کے پاس انصاف کے لئے صرف یہ راستہ ہوتا ہے کہ وہ ڈنڈے اور گولیوں سے مسائل حل کریں ۔
حیدرآباد، سکھر سمیت سندھ کے تمام اضلاع میں بھی وکلاء نے عدالتی کارروایوں کا بائیکاٹ کیا اور جلوس نکالے۔
صوبہ سندھ کے علاوہ پیر کو لاہور میں بھی وکلاء نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا اور جسٹس افتخار چودھری کو غیر موثر قرار دیے جانے کے خلاف احتجاجی جلوس نکالا۔