http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 11 March, 2007, 02:48 GMT 07:48 PST

’وہ نظر بند نہیں‘ عظیم طارق

پاکستان کے وزیر مملکت برائے اطلاعات طارق عظیم نے کہا ہے کہ ’وہ (چیف جسٹس) نظر بند نہیں ہیں۔ نہ ہی حکومت نے انہیں نظر بند کیا ہے۔ اب وہ لوگوں سے کیوں نہیں مل رہے ہیں تو اس کا جواب تو وہ خود ہی دے سکتے ہیں‘۔

پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال کے الزام کے حوالے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو معطل کرنے اور ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کے سلسلے میں بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تردید کی کہ حکومت کی جانب سے کسی کو چیف جسٹس سے ملاقات کرنے سے روکا گیا ہے۔

جسٹس جاوید اقبال کی تقریبِ حلف برداری
جسٹس افتخار کی جگہ جسٹس جاوید:تصاویر
چیف جسٹس معطل: رائے دیں
ججوں میں احساس تحفظ ضروری ہے
جسٹس افتخار نے 2011 تک چیف جسٹس رہنا تھا

ان کا کہنا تھا کہ ’اس معاملے میں اس وقت بہت میڈیا انٹرسٹ ہے، سب لوگ ملنا چاہتے ہیں۔میری ایطلاع کے مطابق ایک سابق اور موجودہ جج نے ان سے رابطہ کیا اور ان کی ان سے بات بھی ہوئی۔ دوسرے لوگ بھی جو ان سے ملنا چاہتے ہیں، ان سے اپائنٹمنٹ لے کر یا ان سے رابطہ کر کے تو ان کی ملاقات ہو سکتی ہے لیکن اگر وہ خود کسی سے نہیں ملنا چاہتے تو ظاہر ہے ان کی خواہش کا احترام کیا جائے گا اور اگر کسی کو ان کے پاس جانے سے روکا گیا ہے تو ان کی خواہش پر ہی روکا گیا ہو گا‘۔

اس سوال کے جواب میں کہ سپریم کوٹ بار ایسوسی ایشن کے موجودہ صدر منیر حسین اور سابق صدر حامد خان ان سے ملنے گئے تھے لیکن انہیں پولیس اور انتظامیہ نے جانے ہی نہیں دیا؟ وزیر مملکت نے کہا پوچھا:

’کیا چیف جسلاس نے ان سے کہا تھا کہ وہ ان سے آ کر ملیں؟‘

اس بارے میں کہ ان کے بھانجے عامر رانا نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’ان پر پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ مستعفی ہو جائیں‘۔ تو ظاق عظیم نے کہا:
جسٹس افتخار کی سرکاری رہائشگاہ کو جانے والے راستے پر پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کی ہوئی ہیں

’یہ تمام قیاس آرائیاں ہیں‘۔

انہوں نے پھر اس باتر پر اصرار کرتے ہوئے کہ حکومت کی جانب سے کوئی رکاوٹ نہیں ہے کہا کہ ’معاملہ اس وقت سپریم جوڈیشل کونس کےپاس ہے جو سپریم کورٹ کا درجہ رکھتی ہے۔ پاکستان کے پانچ سینئر ترین جج اس معاملے کو سن رہے ہیں اور تیرہ تاریخ مقرر کی گئی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں ان ججوں پر اعتماد ہے اور سپریم جوڈیشل کونسل جس نتیجے پر پہنچے گی ہم اس کا احترام کریں گے۔