http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 11 March, 2007, 18:55 GMT 23:55 PST

ندیم سعید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام

’جھکنے سے انکار پر فارغ‘

جسٹس افتخار محمد چوہدری کو سپریم کورٹ کی سربراہی سے عملی طور پر معطل کرنے کا معاملہ جہاں شہ سرخیوں میں ہے وہیں اتوار کے روز بیشتر پاکستانی اخبارات نے اس موضوع پر اداریے بھی لکھے ہیں۔

اس حوالے سے انگریزی زبان میں شائع ہونے والے مؤقر اخبار ڈان نے اپنے اداریے میں پاکستان میں حکومتوں اور عدلیہ کے درمیان تنازعات کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عدلیہ نے خاموشی کے ساتھ سخت گیر حکمرانوں کے سامنے ایک تابعدار ادارے کا کردار اختیار کر لیا، جس کا فرض تھا کہ اقتدار پر قبضہ کرنے والے ہر آمر کو ’نظریہ ضرورت‘ کے تحت قانونی جواز فراہم کرے۔ جب کبھی بھی کسی جج نے جھکنے سے انکار کیا تو اسے فارغ کر دیا گیا۔

اخبار آگے جا کر لکھتا ہے کہ جسٹس چوہدری پر لگائے گئے الزامات چونکہ زیر سماعت ہیں اس لیے ان پر تبصرہ کرنا شاید قابل اعتراض سمجھا جائے لیکن چیف جسٹس کو غیر فعال کیے جانے کے محرکات اور (جسٹس چوہدری کی) عدالتی فعالیت پر بھی نظر ڈالے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔

ان کے بعض فیصلوں سے حکومت ناخوش تھی اور ایسے موقع پر وہ کسی آزاد چیف جسٹس کو کام کرتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتی تھی جب یہ اطلاعات ہوں کہ جنرل مشرف بیک وقت مزید ملک کے صدر اور فوج کے سربراہ رہنا چاہتے ہیں اور اس حوالے سے وہ موجودہ پارلیمان سے ہی دوبارہ منتخب ہونا چاہتے ہیں اور ان کے ان متوقع اقدامات کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیے جانے کا امکان بھی ہو۔

حکومتی ناراضگی کا سبب بننے والے فیصلوں میں ڈان نے سٹیل ملز کی نجکاری کو ناجائز قرار دینا، اسلام آباد میں ایک پبلک پارک کو گاف کورس بنانے سے روکنا اور انسانی حقوق کے معاملات میں ازخود کارروائی کرتے ہوئے کئی مقبول عام احکامات کا ذکر کیا ہے۔ ’لیکن جس عمل نے حکومت کو سب سے زیادہ پریشان کیا وہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے جاری کیے گئے احکامات تھے‘۔

ایک اور انگریزی اخبار ڈیلی ٹائمز نے اپنے اداریے میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے چیف جسٹس آف پاکستان کی معطلی کے بغیر قائم مقام چیف جسٹس کا حلف اٹھانا مناسب تھا؟

اخبار لکھتا ہے کہ اس اقدام نے ریاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ عام طور پر کوئی ریاست ایسا قدم اس وقت اٹھاتی ہے جب اس کا امیج خراب ہونے کا احتمال ہو۔ لیکن (اس واقعہ میں) امیج اس لیے خراب ہوا ہے کیونکہ یہ قدم اٹھانے والی اتھارٹی کی اپنی قانونی اور آئینی حیثیت مشکوک ہے۔

ڈیلی ٹائمز نے بھی جنرل مشرف کے دونوں عہدے رکھنے کی خواہش اور یہ خوف کہ جسٹس چوہدری کے ہوتے ہوئے آئینی معاملات پر سپریم کورٹ کہیں آزادانہ فیصلے نہ کر دے کو چیف جسٹس کی معطلی کی ممکنہ وجہ قرار دیا ہے۔

اس الزام پر کہ جسٹس چوہدری غیر ضروری پروٹوکول اور سکیورٹی طلب کرتے تھے اخبار لکھتا ہے کہ اس حکومت میں کئی اور لوگ بھی اسی ’بڑے جرم‘ کے مرتکب ہیں۔ ’یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ماضی میں ججوں کو مکھیوں کی طرح مارا بھی گیا ہے‘۔

دی نیشن لکھتا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ کسی جج کے برخاست ہونے پر ایسا عوامی ردعمل سامنے آیا ہے۔

دی نیوز نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ اس معاملے کو کئی لوگ شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں اور اس بحرانی صورتحال میں ایک نمایاں سیاستدان کے اس بیان کو تقویت ملے گی کہ ملک میں ایمر جنسی نافذ کر کے اسمبلیوں کی مدت ایک سال کے لیے بڑھائی جا سکتی ہے۔

اخبار جنگ نے اپنے اداریے میں تحریر کیا ہے کہ جمعہ کو انتہائی تیزی سے واقعات رونما ہوئے اور عوام حیرت اور صدمے کی تصویر بنے دیکھتے رہ گئے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسے مناظر پہلے بھی دیکھنے میں آتے رہے ہیں۔

لیکن کسی چیف جسٹس کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس پہلی بار داخل کیا گیا ہے۔ اس سے جو پیچیدگیاں اور رسوائیاں سامنے آئی ہیں پارلیمان کو اس پر غور کرنا چاہیے کے کیا ایسے حالات میں کوئی اور بہتر طریقۂ کار وضع کیا جا سکتا ہے۔

اردو اخبار نوائے وقت اپنے اداریے میں لکھتا ہے کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالتوں کے سربراہوں کو اپنے منصب سے علیحدہ کرنا پاکستان کی تاریخ کا حصہ ہے لیکن کسی جج بلکہ چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا یہ پہلا واقعہ ہے، جس نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

نوائے وقت کے مطابق ’اگر حکومت اس معاملے میں کمانڈو ایکشن کا تاثر نہ دیتی اور ریفرنس پر فیصلے کا انتظار کرتی تو کسی کو الزام تراشی کرنے کا موقع نہ ملتا، خاص طور پر جب جنرل مشرف نواز شریف کے ہاتھوں اپنی برطرفی پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کے اس طرح تو چپڑاسی کو بھی برخاست نہیں کیا جاتا‘۔

اخبار لکھتا ہے کہ چیف جسٹس کو پولیس، انتظامیہ اور عوامی حقوق غصب کرنے والے دیگر اداروں کی مخالفت کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔