http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 10 March, 2007, 10:11 GMT 15:11 PST

سعید اللہ
ڈیرہ اسماعیل خان

ڈیرہ اسماعیل خان میں فرقہ وارانہ تناؤ

صوبہ سرحد کے جنوبی شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں بظاہر فرقہ واریت کی دو مختلف وارداتوں میں دو افراد کے قتل کے بعد ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں مشتعل ہجوم نے توڑ پھوڑ کی جس کے نتیجے میں کاروبارِ زندگی معطل ہو کر رہ گیا ہے۔

جمعہ کی رات ایک سابق فوجی منیر حسین کو نامعلوم افراد نے شہر کے مضافاتی علاقے بستی استرانہ میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ پولیس کو جائے وقوعہ سے کلاشنکوف رائفل کی بعد میں آنے والی قسم ’ کلاکوف ‘ کی گولیوں کے خول ملے ہیں۔

سنیچر کی صبح شہر کے کمشنری بازار میں ایک واپڈا اہلکار صفدر حسین کو دو نامعلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور دو مختلف سائیکلوں پر سوار تھے۔

اس سے قبل جمعہ کو ایک تاجر انور عباس شاہ کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا، جبکہ جمعرات کو کالعدم شدت پسند تنظیم سپاہ صحابہ کے کارکن مسرور عالم کو موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

مسرور عالم کی ہلاکت کے بعد سپاہ صحابہ کے ایک مقامی عہدیدار کی طرف سے بیان جاری کیا گیا تھا کہ ’شہر کو تلپٹ کیا جا سکتا تھا لیکن ہم صبر سے کام لے رہے ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی انتظامیہ کو وقت دیا جا رہا ہے کہ وہ قاتلوں کو گرفتار کرے ’ورنہ ہم بدلہ لینے کا حق بھی رکھتے ہیں‘۔

ان واقعات کے بعد مختلف علاقوں میں احتجاجی جلوس نکالے گئے، جن میں شامل افراد نے مشتعل ہو کر بعض دکانوں پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں شہر کے اکثر بازار بند کر دیئے گئے ہیں۔ پولیس ان علاقوں میں گشت کر رہی ہے جہاں فرقہ وارانہ کشیدگی پائی جاتی ہے۔

اے ایس پی صدر کیپٹن حماد عابد کا کہنا تھا کہ بازار انتظامیہ نے بند نہیں کیے بلکے دکانداروں نے توڑ پھوڑ سے بچنے کے لیے خود ایسا کیا ہے۔

مظاہرین نے ڈیرہ سے بنوں اور کوٹلی زمان جانے والی سڑکوں کو رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کر دیا ہے جبکہ پولیس انہیں منتشر کرنے کے لیے مذاکرات کر رہی ہے۔

ان حالات میں شہر میں فرقہ وارانہ تناؤ پایا جاتا ہے، جبکہ شیعہ مسلک کے افراد ’چہلم‘ کا سوگ بھی منا رہے اور اس سلسلے میں ماتمی جلوس بھی نکالے جائیں گے۔