Saturday, 10 March, 2007, 18:19 GMT 23:19 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معطلی نے انصاف کے منتظر کسان منو بھیل کو بھی صدمہ پہنچایا ہے۔
منو بھیل صوبہ سندھ کے ایک کسان ہیں اور ان کے اہل خانہ کے سات افراد کو اپریل انیس سو اٹھانوے میں ایک زمیندار عبدالرحمٰن مری نے مبینہ طور پر اغوا کرلیا تھا۔
سویڈن کے ایک شہری توبوروگ اساکسن کی شکایت پر سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اس کا ازخود نوٹس لیا تھا۔
جنوری سن دوہزار تین سے حیدرآباد سندھ کے پریس کلب کے باہر فٹ پاتھ پر کھیت مزدور منو بھیل احتجاجی دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور وہ اس عرصے میں حکومت اور انسانی حقوق کے بیشتر فورمز پر بھی گئے لیکن تاحال انہیں انصاف نہیں ملا۔
اس مرتبہ تو جج ہی۔۔۔ |
منو بھیل کا کہنا ہے کہ جسٹس افتخار محمد چودھری کے اقدام سے انہیں یہ احساس ہو چلا تھا کہ اس ملک میں انصاف مل سکتا ہے، مگر حکومت کے اس فیصلے سے لگتا ہے کہ حکومت انصاف نہیں کرنا چاہتی۔
منو بھیل کا کہنا تھا کہ جسٹس افتخار محمد چودھری کی دلچسپی کی وجہ سے انہیں امید تھی کہ ان کا خاندان بازیاب ہوجائے گا اب یہ خدشہ ہے کہ گرفتار زمیندار ضمانت پر رہا ہو جائے گا۔ ’اب جن کے لوگ لاپتہ ہیں وہ انصاف کے لیے کہاں جائیں گے‘۔
![]() | |
| منو بھیل کے مقدمے کی آئندہ سماعت سولہ مارچ کو ہوگی |
منو بھیل کے مقدمے کی آئندہ سماعت سولہ مارچ کو ہو رہی ہے مگر منو بھیل کو خدشہ ہے کہ چیف جسٹس کی تبدیلی نے ان کے لیے انصاف میں تاخیر کردی ہے۔
ان کے مطابق ان کے کیس سے جسٹس افتخار محمد ذاتی طور آگاہ تھے، ’اب نیا جج تو اپنی مرضی سے چلے گا‘۔
منو بھیل اس بات پر بھی حیران ہیں کہ اس سے پہلے ان کے خاندان کی بازیابی کے لیے کوشش کرنے والے پولیس افسران کا تبادلہ کیا جاتا تھا مگر اس مرتبہ تو جج ہی کو ہٹا دیا گیا ہے۔