Saturday, 10 March, 2007, 02:24 GMT 07:24 PST
معطل چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کے بھانجے ایڈووکیٹ عامر رانا نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں چیف جسٹس کو پولیس کے سخت پہرے میں ان کی رہائش گاہ تک محدود کردیا گیا ہے اور ان پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق لاپتہ افراد کے مقدمات (خارج کرنے) کے حوالے سے جسٹس افتخار پر حکومت کی طرف سے بہت دباؤ ڈالا جا رہا تھا اور اس حوالے سے انہیں ’تضحیک کا نشانہ‘ بھی بنایا جاتا رہا ہے۔
عامر رانا کا کہنا تھا کہ صدر مشرف سمیت کئی اعلیٰ حکومتی عہدیدار ’چیف جسٹس‘ پر دباؤ ڈالتے رہے ہیں کہ وہ مقدمات کی سماعت کے دوران حکومت مخالف ’ریمارکس‘ دینے سے اجتناب کریں کیونکہ ایسے تبصروں سے انتخابات کے حوالے سے حکومت پر برا اثر پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کی ایک عدالت میں ہونے والے خود کش حملے اور اس میں ایک جج سمیت سترہ افراد کی ہلاکت پر ’چیف جسٹس‘ صاحب نے بیان دیا تھا کہ معاشی ترقی کی باتیں ایک طرف لوگوں کو تو اپنی جان کی فکر پڑی ہوئی ہے۔
عامر رانا کے مطابق ڈاکٹر ارسلان نے دو مرتبہ سی ایس ایس (سنٹرل سپیریئر سروسز) کا امتحان دیا لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ اس دوران انہوں نے پی سی ایس (پروونشل سول سروسز) کا امتحان پاس کر لیا اور بلوچستان کے محکمہ صحت میں سیکشن افسر کے طور پر تعینات ہوگئے، جہاں سے بعد ڈپیوٹیشن پر ان کا تبادلہ ایف آئی اے (فیڈرل انوسٹیگیشن ایجنسی) میں ہو گیا۔
عامر رانا کا کہنا تھا کہ اگر موقع دیا گیا تو حکومت کی طرف سے لگائے جانے والے تمام الزامات کو دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ غلط ثابت کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا ’ملک کا سب سے بڑا جج انصاف مانگ رہا ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بھی سٹیل مل کی نجکاری کو سپریم کورٹ کی طرف سے مسترد کیے جانے پر ’چیف جسٹس‘ صاحب سے خوش نہیں تھے۔