http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 10 March, 2007, 02:24 GMT 07:24 PST

’گھر تک محدود، استعفے کے لیے دباؤ‘

معطل چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کے بھانجے ایڈووکیٹ عامر رانا نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں چیف جسٹس کو پولیس کے سخت پہرے میں ان کی رہائش گاہ تک محدود کردیا گیا ہے اور ان پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

جسٹس جاوید اقبال کی تقریبِ حلف برداری
جسٹس افتخار کی جگہ جسٹس جاوید:تصاویر
چیف جسٹس معطل: رائے دیں
ججوں میں احساس تحفظ ضروری ہے
جسٹس افتخار نے 2011 تک چیف جسٹس رہنا تھا

عامر رانا نے کوئٹہ سے بی بی سی سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد میں چیف جسٹس کی رہائش گاہ سخت پہرے میں ہے اور دوستوں، عزیزوں اور رشتہ داروں کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

جسٹس افتخار محمد چوہدری نظر بند نہیں: وزیر قانون

عامر رانا نے کہا کہ جسٹس افتخار چوہدری کی رہائش گاہ پر تمام فون کاٹ دیئے گئے ہیں جبکہ ان کے اور ان کے گھر والوں کے موبائل فون بھی ضبط کر لیے گئےہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتفاق سے ایک بچی کا فون بچ گیا تھا جس پر انہوں نے جمعہ کی شام کو جسٹس افتخار محمد چوہدری سے بات کی۔

ان کے مطابق لاپتہ افراد کے مقدمات (خارج کرنے) کے حوالے سے جسٹس افتخار پر حکومت کی طرف سے بہت دباؤ ڈالا جا رہا تھا اور اس حوالے سے انہیں ’تضحیک کا نشانہ‘ بھی بنایا جاتا رہا ہے۔

عامر رانا کا کہنا تھا کہ صدر مشرف سمیت کئی اعلیٰ حکومتی عہدیدار ’چیف جسٹس‘ پر دباؤ ڈالتے رہے ہیں کہ وہ مقدمات کی سماعت کے دوران حکومت مخالف ’ریمارکس‘ دینے سے اجتناب کریں کیونکہ ایسے تبصروں سے انتخابات کے حوالے سے حکومت پر برا اثر پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کی ایک عدالت میں ہونے والے خود کش حملے اور اس میں ایک جج سمیت سترہ افراد کی ہلاکت پر ’چیف جسٹس‘ صاحب نے بیان دیا تھا کہ معاشی ترقی کی باتیں ایک طرف لوگوں کو تو اپنی جان کی فکر پڑی ہوئی ہے۔

عامر رانا کے مطابق ڈاکٹر ارسلان نے دو مرتبہ سی ایس ایس (سنٹرل سپیریئر سروسز) کا امتحان دیا لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ اس دوران انہوں نے پی سی ایس (پروونشل سول سروسز) کا امتحان پاس کر لیا اور بلوچستان کے محکمہ صحت میں سیکشن افسر کے طور پر تعینات ہوگئے، جہاں سے بعد ڈپیوٹیشن پر ان کا تبادلہ ایف آئی اے (فیڈرل انوسٹیگیشن ایجنسی) میں ہو گیا۔

عامر رانا کا کہنا تھا کہ اگر موقع دیا گیا تو حکومت کی طرف سے لگائے جانے والے تمام الزامات کو دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ غلط ثابت کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا ’ملک کا سب سے بڑا جج انصاف مانگ رہا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بھی سٹیل مل کی نجکاری کو سپریم کورٹ کی طرف سے مسترد کیے جانے پر ’چیف جسٹس‘ صاحب سے خوش نہیں تھے۔