http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 09 March, 2007, 19:26 GMT 00:26 PST

علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور

احمدیوں کے خلاف تعصب کا سال

جماعت احمدیہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان میں ان کے تیس سے زائد پیروکاروں کے خلاف مذہبی بنیادوں پر فوجداری مقدمات درج کیے گئے ہیں اور مقامی اردو اخبارات میں ان کے خلاف ایک ہزار سے زائد مخالفانہ خبریں شائع کی گئیں۔

جماعت احمدیہ نے سال دو ہزار چھ کے لیے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ان کے خلاف درج کیے جانے والے زیادہ تر مقدمات توہین رسالت اور توہین قرآن کے ہیں۔

جماعت احمدیہ پیرکاروں کو سن انیس سو چوہتر میں ایک آئینی ترمیم کے ذریعے دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا تھا۔

جماعت احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین نے کہا ہے کہ جب سے جماعت احمدیہ کے خلاف قانون سازی کی گئی ہے اس وقت سے دسمبر دوہزار چھ تک احمدیوں پر ساڑھے تین ہزارکے لگ بھگ مقدمات درج کیے جاچکے ہیں۔

اس تازہ رپورٹ کے مطابق سال دوہزار چھ میں دو احمدیوں کو محض عقیدے کی بنا پر قتل کیا گیا۔

ترجمان کے بقول ان کے کارکنوں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کےدوران ربوہ میں ان کے مخالف مولویوں کو جلسے کرنے اور جلوس نکالنے کی اجازت دی گئی جبکہ جماعت احمدی کے لوگوں کو اپنا سالانہ اجتماع کرنے کی اجازت نہ دی گئی۔

ترجمان کے مطابق سنہ دوہزار چھ میں پاکستانی اردو اخبارات میں احمدیوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات شائع ہوتے رہے اور ان بیانات کو جلی سرخیوں کے ساتھ بلا تحقیق شائع کیا جاتا رہا اور احمدیوں کی طرف سے بھجوائی جانے والے تردیدی بیانات کو صحافتی ضابطہ اخلاق کے برعکس مناسب کوریج نہ دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ سال دوہزار چھ میں احمدیہ پریس کے خلاف بھی بے بنیاد مقدمات کا سلسلہ جاری رہا اور ان کے روزنامہ ابوالفضل کے شمارے ضبط کیے گئے۔احمدیہ پریس پر چھاپے مارے گئے پرنٹر پبلشرکے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کرکے گرفتاریاں کی گئیں۔