http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 08 March, 2007, 10:13 GMT 15:13 PST

اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

حکومتی دعوے، NGOs اور ڈرامے

دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ’یوم خواتین‘ منایا جا رہا ہے اور ملک کے مختلف شہروں میں جہاں حکومتی سطح پر تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں وہاں سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں کی جانب سے بھی سیمینار، واک اور دیگر پروگراموں کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے بیشتر اخبارات میں بڑے بڑے اشتہارات شائع کیے گئے ہیں، جن میں حکومتی اقدامات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

سرکاری اور نجی ٹی وی چینلز اور ریڈیو پر خصوصی پروگرام نشر کیے جا رہے ہیں اور حسب معمول پاکستان میں اینٹیں بنانے والی اور گھاس اٹھائے خواتین کی تصاویر بھی اخبارات میں شائع کی گئی ہیں۔

خواتین کے حقوق کے حوالے سے مرکزی تقریب اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں دوپہر کے بعد ہوگی، جس میں تقریروں کے ساتھ موسیقی اور رقص کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔ بعض این جی اوز کی جانب سے سہ پہر کو ایک واک منعقد کی جائے گی اور بعد میں موضوع کی مناسبت سے سٹیج ڈرامے بھی دکھائے جائیں گے۔

فائیو سٹار ہوٹلوں اور دیگر مقامات پر منعقد ہونے والی ان خصوصی تقریبات اور اشتہارات پر ایک محتاط اندازے کے مطابق دس کروڑ روپے سے زائد اخراجات آئے ہو نگے۔

پاکستان کے دیہی علاقوں میں رہنے والی خواتین کے مسائل شہروں میں رہنے خواتین کی نسبت زیادہ گھمبیر ہیں۔ گزشتہ کچھ روز میں یہ خبریں بیشتر اخبارات کی زینت بن چکی ہیں کہ صوبہ سرحد میں باجوڑ، مردان اور دیگر علاقوں میں سخت گیر اسلامی سوچ رکھنے والے گروہ مخلوط تعلیم کے اداروں کے سربراہوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں کہ لڑکے اور لڑکیوں کی مخلوط تعلیم کا سلسلہ ختم نہ ہوا تو وہ ان کے ادارے کو بم سے اڑا دیں گے۔

اس کے علاوہ قبائلی علاقوں سے یہ خبریں بھی شائع ہوچکی ہیں کہ وہاں پمفلٹ تقسیم کیے گئے ہیں کہ چھٹی اور ساتویں کلاس کی بچیوں کو سکول نہ بھیجا جائے ورنہ وہ سکول میں خود کش حملہ کر کے سب کو مار دیں گے۔