Thursday, 08 March, 2007, 07:34 GMT 12:34 PST
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ میں ایک فوجی کیمپ پر نامعلوم افراد نے راکٹ فائر کیا ہے۔
راکٹ لگنے سے اگرچہ سپاہیوں کی ایک بیرک کو نقصان پہنچا لیکن اس حملے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق کسی نے بھی ابھی تک اس واقعہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ ایک اور راکٹ فوجی کیمپ کے قریب پہاڑیوں میں گرا۔
پشاور سے بی بی سی کے نامہ نگار ہارون رشید کے مطابق راکٹ حملے کے بعد لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی، کیونکہ مقامی طالبان اور حکومت کے درمیان پچھلے سال ستمبر میں طے پانے والے ’امن معاہدہ‘ کے بعد پہلی مرتبہ کسی فوجی کیمپ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
واقعہ کے فوراً بعد فضاء میں مختلف سمتوں میں پرواز کرتے ہوئے ہیلی کاپٹر بھی دیکھے گئے۔
شمالی وزیرستان پاکستان کا وہ علاقہ ہے جو افغانستان کے ساتھ واقع ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ القاعدہ اور طالبان سے تعلق رکھنے والے اسلامی شدت پسند یہیں سے کارروائیاں کرتے ہیں۔
میران شاہ میں فوجی کیمپ پر حملہ سے دو روز قبل مقامی قبائلیوں اور وسط ایشیائی ممالک سے آئے عسکریت پسندوں کے درمیان مسلح جھڑپ میں اٹھارہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں سے بیشتر افراد ازبک اور تاجک بتائے جا رہے ہیں۔