Thursday, 08 March, 2007, 15:36 GMT 20:36 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی میں خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے جمعرات کو انسانی اور حقوق نسواں کی تنظیموں نے ریلیاں نکالیں ، جن میں خواتین کو تحفظ فراہم کرنے اور امتیازی قوانین کے خاتمے کے مطالبات کیے گئے۔
کراچی پریس کلب میں مختار مائی کے اعزاز میں استقبالیہ دیا گیا، جس میں سینئر صحافی صبیح الدین غوثی، زبیدہ مصطفیٰ ، زاہدہ حنا، مظہر عباس اور دیگر نے ان کی جدوجہد پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔
اس موقعے پر خطاب کرتے ہوئے مختار مائی نے کہا کہ اب خواتین کے عالمی دن کی تقریبات سے بھی بڑہ کر کچھ کرنا چاہیے، کیونکہ عورتوں سے جس بے دردی سے زیادتی اور ظلم ہو رہا ہے اسے سب جانتے ہیں۔
انہوں نے خواتین کو مخاطب کر کے کہا کہ آج اس امر کی ضرورت ہے کہ پوری قوت سے ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے، جدوجہد میں ضرور کامیابی ملے گی اور روشنی ضرور ہوگی۔
بعد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی یہ دعا ہے کہ اب کوئی دوسری عورت مختار مائی نہ بنے اگر بدقسمتی سے کسی سے کوئی زیادتی ہوتی بھی ہے تو تمام خواتین کو اس کا ساتھ دینا چاہیئے۔
![]() | |
| عورتوں کے عالمی دن کے موقع پر مختار مائی کا پورٹریٹ |
انہوں نے کہا کہ وہ پہلے پولیس کو زیادہ بااختیار اور استحصالی سمجھتی تھیں مگر مسئلے کی جڑ وڈیرہ ہے جو پولیس کو استعمال کرتا ہے، یہ وڈیرہ سیاسی جماعت، اسمبلی اور حکومت سمیت ہر جگہ موجود ہے۔
اس موقعے پر اجتماعی زیادتی کا شکار نسیمہ لبانو اور کائنات سومرو بھی موجود تھی۔ مختار مائی نے نسیمہ کو یقین دھانی کروائی کہ وہ انصاف کی فراہمی کے لیے ان کا ساتھ دیں گی۔
کراچی پریس کلب کے باہر جماعت اسلامی کے شعبے خواتین کے جانب سے حقوق نسواں بل کے خلاف اور حدود آرڈیننس کے حق میں مظاہرہ کیا گیا۔ جس میں حکومت اور این جی اوز پر تنقید کی گئی۔