Wednesday, 07 March, 2007, 15:41 GMT 20:41 PST
ساجد اقبال
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
چند سال پہلے کالم نگار اور شاعر منوبھائی نے اپنی پنجابی نظم ’اجے قیامت نئیں آئی‘ میں لکھا تھا:
پارا تھرمامیٹر دا سیاست چودھری طالب دی
ہیرا منڈی شاہیے دی تے دِلی مرزا غالب دی
چادر جنرل رانی دی تے چاردیواری جالب دی
پر اجے قیامت نئیں آئی
(پارا تھرمامیٹر کا سیاست چودھری طالب کی
ہیرا منڈی شاہیے کی اور دِلی مرزا غالب کی
چادر جنرل رانی کی اور چاردیواری جالب کی
لیکن ابھی قیامت نہیں آئی)
فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے چودھری طالب نےگزشتہ روز اپنے بھتیجے اور مسلم لیگ (ق) کے رہنما سعید اقبال چودھری کے ساتھ ایک بار پھر پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔
آئندہ انتخاب کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کرنے کا سلسلہ فیصل آباد کی ایک نشست تک محدود نہیں بلکہ ملک بھر میں انتخابات کا باقاعدہ اعلان نہ ہونے کے باوجود انتخابی صف بندی کا آغاز ہوچکا ہے اور صدر مشرف کے چند اتحادیوں کی جانب سے انتخابی عمل کو ایک سال تک کے لیے ملتوی کرنے کے مطالبے کے باوجود اس کی رفتار میں کوئی کمی نہیں آئی۔
چودھری طالب کی سیاست اور تھرمامیٹر کے پارے سے متعلق منو بھائی کے حوالے کو سمجھنے کے لیے ان کے سیاسی سفر کو جاننا بہت ضروری ہے۔
ستر کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہونے والے چودھری طالب غلام مصطفیٰ کھر کے دستِ راست اور ان کی کابینہ میں صوبائی وزیر تھے۔ بعد میں چودھری صاحب نے بھٹو کے خلاف بغاوت کرنے والے اس وقت کے شیرِ پنجاب (غلام مصطفیٰ کھر) کے ساتھ پیپلز پارٹی کو چھوڑ دیا تھا۔
انہوں نے ضیاء دور میں پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ حنیف رامے کے ساتھ پیر پگارا کی مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔ بعد میں بھی وہ مختلف سیاسی پارٹیوں میں آتے جاتے رہے۔
انتخابی صف بندی کا آغاز |
اس سے پہلے جھنگ سے سیدہ عابدہ حسین بھی پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے ٹکٹ پر منتخب ہونے کے بعد پی پی پی پیٹریاٹ کے مرکزی رہنما کی حیثیت سے مسلم لیگ میں شامل ہونے والے سید فیصل صالح حیات کا مقابلہ کرنے کے لیے بینظیر بھٹو سے ہاتھ ملا چکی ہیں۔ ان کے شوہر سید فخر امام بھی ایک اور پیٹریاٹ رضا ہراج کے مقابلے میں انتخابی میدان میں اتر سکتے ہیں۔
دیگر سیاسی پارٹیوں میں بھی کچھ اسی طرح کی سرگرمیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔
![]() | |
| بینظر بھٹواور نواز شریف لندن میں کئی ملاقاتیں کرچکے ہیں (فائل فوٹو) |
اس تناظر میں دیکھا جائے تو حکومتی مسلم لیگ کے پاس ایسے مضبوط امیدواروں کی کوئی کمی نہیں ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے کامیابی پہ کامیابی حاصل کیے جا رہے ہیں۔ ماضی کا ریکارڈ سامنے رکھتے ہوئے ان امیدواروں کو سرکاری سرپرستی حاصل ہونے کے بارے میں بھی کسی کو کوئی شک نہیں ہے جو ملک کے پیشتر علاقوں میں جیت اور ہار کے درمیان بنیادی فرق بن کر سامنے آتا ہے۔
ایسی صورت میں اگر چودھری طالب سرکاری مسلم لیگ کو چھوڑ کر پی پی پی میں شمولیت کا فیصلہ کرتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے۔ اب یا تو انہیں مبینہ مشرف بینظیر معاہدے کی کامیابی کا پختہ یقین ہے یا پھر انہوں نے ووٹر کے موڈ میں کوئی غیر معمولی تبدیلی دیکھی ہے۔