Monday, 05 March, 2007, 07:46 GMT 12:46 PST
حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ایک شخص کو امریکہ کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں قتل کردیاگیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے شمالی وزیرستان کے ایک اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ پینتیس سالہ قیوم شامیری کی لاش پیر کی صبح میران شاہ سے پینتیس کلومیٹر جنوب کی جانب سڑک کے کنارے ملی ہے۔
اہلکار کے مطابق مقتول کو سر اور سینے میں گولیاں ماری گئ ہیں۔
لاش کے پاس پشتو زبان میں ایک خط بھی ملا ہے جس میں اس شخص کو امریکہ کا جاسوس قرار دیا گیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ’امریکہ لے لیے جاسوسی کرنے والوں کا انجام یہی ہوگا۔‘
اطلاعات کے مطابق قتل ہونے والا شخص مقامی بتایا جارہا ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک کسی نے ان کی لاش وصول نہیں کی ہے۔
گزشتہ منگل کے روز بھی شمالی وزیرستان میں ایک افغان شہری کو جاسوسی کے الزام میں قتل کیا گیا تھا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ جنوبی اور شمالی وزیرستان میں القاعدہ اور طالبان کے درجنوں شدت پسند سرگرم ہیں جن کو مقامی طالبان کی حمایت حاصل ہے۔
گزشتہ تین سالوں کے دوران دو سو سے زیادہ افراد کو قتل کیا جاچکا ہے جن میں ڈیڑھ سو سے زیادہ حکومت حمایت یافتہ عمائدین بھی شامل ہیں۔ان ہلاکتوں کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے تاہم اس کا الزام علاقے میں سرگرم مقامی طالبان پر لگایا جا رہا ہے۔
گزشتہ پانچ ستمبر کو مقامی طالبان اور حکومت کے درمیان امن معاہدہ ہوا تھا جس میں ٹارکٹ کلنگ پر پابندی لگائی گئی تھی تاہم یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔