http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 05 March, 2007, 15:52 GMT 20:52 PST

بیشتر پروازیں 27 ملکوں میں ممنوع

یورپی یونین نے پاکستان کی قومی ائر لائن پی آئی اے کے بیشتر طیاروں کی پروازیں 27 رکن ممالک کے لیے ممنوع قرار دے دی ہیں اور ان کے حفاظتی انتظامات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اس پابندی کا اطلاق ائر لائن کے بیالیس میں سے پینتیس طیاروں پر ہو گا اور 777 ساخت کے سات طیارے پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔

پی آئی اے کے بارے میں یورپ میں تشویش

یورپی یونین نے پہلی بار گزشتہ سال پی آئی اے کو متنبہ کیا تھا کہ اگر اس نے اپنے پرانے طیاروں کو تبدیل نے کیا تو اس کی پروازوں پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔

گزشتہ جمعہ کو یورپی یونین سے تعلق رکھنے والے ایوی ایشن کے ماہرین کی ایک کمیٹی نے برسلز میں ہونے والے اجلاس میں کہا تھا کہ پی آئی اے کے بیڑے میں شامل بیالیس میں سے پینتیس جہاز فضائی سفر کے بین الاقوامی حفاظتی معیار پر پورا نہیں اترتے۔

پی آئی اے کے جہاز فرانس، برطانیہ، ہالینڈ اور اٹلی سمیت یورپ کے بیشتر ممالک کے لیے پرواز کرتے ہیں۔ لیکن اس پابندی کے بعد لندن، پیرس، روم اور ایمسٹرڈم کے لیے پی آئی اے کی پروازیں متاثر ہوں گی۔
پی آئی اے ایک فوکر طیارہ جس کے حادثے میں متعدد ہلاکتیں ہوئیں

یورپی یونین نے بہر صورت پی آیی اے کو 777 طیاروں کی پروازیں جاری رکھنے کی اجازت دی ہے۔

گزشتہ ہفتے پی آئی اے کے چئرمین اور برسلز میں پاکستان کے مندوب کے ہمراہ ایک وفد نے یورپی یونین کے نمائندوں سے ملاقات کی تا کہ اس مسئلہ کو حل کیا جا سکے۔

اس ملاقات کے بعد ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ وفد یورپی یونین کی مجوزہ پابندی سے شدید اختلاف کرتا ہے اور اس سلسلے میں جو حقائق پیش کیے گئے ہیں انہیں منصفانہ تصور نہیں کرتا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ماہرین کی آراء سامنے آنے کے بعد معاملے کو عام طور پر دس روز کے اندر یورپی کمیشن میں زیر بحث لایا جاتا ہے اور اس کی طرف سے کیا گیا فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوتا ہے۔

یورپی حدود میں فضائی سفر کو محفوظ بنانے کے لیے یورپی یونین نے پچھلے سال تقریباً سو کے قریب ائر لائنوں پر پابندی لگائی تھی، جن میں سے اکثریت کا تعلق افریقی ممالک سے تھا۔