Saturday, 03 March, 2007, 11:06 GMT 16:06 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
صوبہ سرحد کے شمالی ضلع سوات میں پشتو ٹی وی چینل خیبر کے نمائندے کا کہنا ہے کہ مشتعل افراد کے ایک گروپ نے ان کے کیمرہ مین کو اغواء کرنے کے بعد تین گھنٹوں تک زد و کوب کیا اور کیمرہ توڑ دیا۔
یہ واقعہ سوات میں کبل کے علاقے میں جمعہ کو پیش آیا۔ کیمرہ مین تاج رحمان کو بعد میں چھوڑ دیا گیا تاہم رات گئے مشتعل افراد نے ٹی وی کے دفاتر پر حملہ بھی کیا۔
اے وی ٹی خیبر کے شاہین بونیری نے بی بی سی کو سوات سے بتایا کہ انہوں نے اس واقعے کی اطلاع پولیس کو دے دی ہے جو اس کی تحقیقات کر رہی ہے۔
واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے شاہین کا کہنا تھا کہ ان کی نیوز ٹیم سوات میں کالعدم تنظیم تحریک نفاذ محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد کے داماد مولانا فضل اللہ کی پولیس کے ہاتھوں گرفتار اور بعد میں رہا کیے جانے کے واقعے کی کوریج کر رہی تھی کہ مولانا کے حامیوں نے ان کے کمرہ مین کو مبینہ طور پر اغوا کر لیا۔
’اسے ایک کمرے میں رکھا گیا اور بیس سے پچیس افراد نے زدوکوب کیا۔ اس کا کیمرہ بھی زمین پر پٹخا گیا۔ تاہم چند مقامی بااثر افراد کی مداخلت پر اس کی رہائی ممکن ہوسکی‘۔
مولانا فضل اللہ نے ایک مسجد میں قائم غیرقانونی ایف ایم سٹیشن سے اپنی شعلہ بیانی کے باعث کافی شہرت پائی ہے۔ وہ ٹی وی، مغربی لباس اور پولیو ویکسینیشن کے شدید خلاف ہیں۔
مولانا فضل اللہ کون؟ |
ٹی وی ٹیم ان کے رہائی پر ایک اجتماع سے خطاب کی کوریج کر رہی تھی کہ چند مشتعل افراد نے کیمرہ مین اور رپورٹر سے بدتمیزی کی۔
مولانا فضل اللہ نے اس موقع پر کہا کہ حکومت آئندہ انہیں گرفتار کرنے کی کوشش سے باز رہے۔ اپنے سیاہ گھوڑے پر سوار، ان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت کی پہلی اور آخری غلطی ہونی چاہیے۔
اس واقعے کے بعد سے علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ خیبر ٹی وی کے حکام نے حکومت سے تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔