Friday, 02 March, 2007, 05:21 GMT 10:21 PST
عدنان عادل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
ملتان میں ایک دھماکہ سے تین افراد ہلاک اور انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے ایک جج سمیت دس افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
ملتان پولیس کے مطابق تقریبا پونے نو بجے کلمہ چوک سے شروع ہونے والے فلائی اوور کے پاس ایک دھماکہ ہوا جہاں سے انسداد دہشت گردی کے جج بشیر احمد بھٹی کی کار گزر رہی تھی۔
ضلعی رابطہ افسر (ڈی سی او) ملتان افتخار بابر کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ سائیکل میں لگے ہوئے ٹائم بم سے کیا گیا ہے۔
ملتان پولیس کے مطابق دھماکہ سے جج کی حفاظت پر متعین پولیس کانسٹیبل نذیر احمد اور ان کے ڈرائیور محمد اقبال موقع پر ہلاک ہوگئے تھے، جبکہ زخمی ہونے والا حفاظتی دستہ میں شامل ایک پولیس کانسٹیبل محمد اعجاز ہسپتال پہنچ کر دم توڑ گیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج بشیر احمد شدید زخمی ہیں اور دوسرے زخمیوں کے ساتھ نشتر ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔
نشتر ہسپتال کے ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر علی مہدی کے مطابق جج بشیر بھٹی اور ایک اور زخمی کی سرجری کی جارہی ہے، جبکہ آٹھ زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے اور انہیں وارڈ میں رکھا گیا ہے۔
دھماکہ کے بعد ملتان میں عدالتوں میں کام بند کردیا گیا ہے۔
ملک اسحاق ملتان کی سنٹرل جیل میں قید ہیں اور سکیورٹی تحفظات کی وجہ سے ان کے خلاف قائم مقدمات کی سماعت بھی جیل ہی میں ہوتی ہے۔ ذرائع کے مطابق جج بشیر بھٹی عنقریب ملک اسحاق کے مقدمات میں فیصلہ سنانے والے تھے۔
سات دن پہلے چوبیس فروری کو ملتان کے قریب واقع ایک قصبہ چیچہ وطنی میں ایک بم پھٹنے سے تین افراد ہلاک ہوگئے تھے جن کے بارے میں پولیس نے دعوی کیا تھا کہ وہ دہشت گردی کے لیے بم لے جارہے تھے جو ان کے ہدف پر پہنچنے سے پہلے پھٹ گیا۔