Thursday, 01 March, 2007, 00:45 GMT 05:45 PST
نثار کھوکھر
لاڑکانہ، پاکستان
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے لاڑکانہ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہاد صرف حکومت کر سکتی ہے کسی دوسرے کو اس کا کوئی حق نہیں۔
صدر مشرف نے کہا کہ ’پاکستان میں ہر دوسرا شخص جہاد پر نکل پڑتا ہے۔ ان کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ جہاد کرتے پھریں۔ جہاد صرف حکومت کرے گی، کسی دوسرے کو اس کا کوئی حق نہیں ہے۔
لاڑکانہ میں جنرل مشرف کا یہ جلسہ سرکاری اور عوامی قسم کا ملا جلا اجتماع تھا جس میں تھرپارکر سے لے کر جیکب آباد تک کے اظلاع سے عوام اور سرکاری ملازمین کو لایا گیا تھا۔ اس جلسے کی تیاریاں گزشتہ ایک ماہ سے جاری تھیں۔
جلسہ عام سے خطاب کرنے سے قبل جنرل مشرف نے دریائے سندھ پر لاڑکانہ اور خیر پور اطلاع کو ملانے والے ایک پل کا سنگِ بنیاد رکھا۔
جنرل مشرف نے اپنے خطاب میں کہا کہ شکر ہے مذہبی انتہا پسندی سندھ میں نہیں ہے۔ انہوں نے صوبہ سرحد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں باہر سے آئے ہوئے لوگ موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپ، ازبکستان اور یمن سے آئے ہوئے لوگ پہاڑوں میں چھپے ہوئے ہیں اور وہ پاکستان کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ ’وہ لوگ ملک چھوڑ دیں ورنہ ان سے فوج نمٹ لے گی۔‘
جنرل مشرف نے سندھ کے عوام سے کہا کہ وہ ماضی کی تلخیاں بھول جائیں اور ’سب سے پہلے پاکستان کہنا شروع کریں‘۔
جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر ارباب رحیم نے پی پی پی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ لاڑکانہ اب پی پی پی کا نہیں مسلم لیگ کا قلعہ بنے گا۔