Thursday, 01 March, 2007, 11:04 GMT 16:04 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اسلام آباد میں جامعہ حفصہ کے نائب پرنسپل غازی عبدالرشید نے کہا ہے کہ بچوں کی لائبریری پر مدرسے کی طالبات کا قبضہ برقرار رہے گا لیکن بچوں کے استعمال کے لیے یہ لائبریری کھول دی گئی ہے۔
اخبارات میں لائبریری پر قبضے کے حوالے سے جامعہ حفصہ اور قابضین پر شدید تنقید کے بعد لائبریری کو بچوں کے لیے کھولا گیا ہے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد میں حکومت نے بیس فروری کو دو مساجد کو غیر قانونی تعمیرات کی بنا پر منہدم کردیا تھا اور بعض دیگر مساجد اور مدارس کو نوٹس جاری کیے تھے۔ جس کے بعد سیکٹر جی سکس میں لال مسجد سے ملحقہ بچوں کی لائبریری پر دینی مدرسے کی برقعہ پوش طالبات نے قبضہ کرلیا تھا۔
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں بچوں کی لائبریری پر دینی مدرسے کی طالبات کے قبضے کو چالیس روز ہوچکے ہیں اور تاحال حکومت کے لیے سرکاری عمارت پر قبضہ ختم کرانا ایک بڑا چیلینج بنا ہوا ہے۔
حکام کے مطابق بچوں کی مقبوضہ لائبریری میں آٹھ ہزار کے قریب کتابیں اور آڈیو ویڈیو کیسٹ موجود ہیں اور روزانہ ایک سو بچے وہاں آتے تھے۔
سیکٹر جی سکس میں واقع جامعہ حفصہ کے نائب پرنسپل کا کہنا ہے کہ مدرسے میں ساڑھے چھ ہزار طالبات دینی تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور یہ دنیا میں خواتین کی اسلامی تعلیم کی سب سے بڑی درسگاہ ہے۔ ان کے مطابق جب اتنی بڑی تعداد میں برقعہ پہن کر طالبات آتی ہیں تو حکمرانوں کی روشن خیالی مجروح ہوتی ہے اور وہ مدرسے کو گرانا چاہتے ہیں۔
جب ان سے پوچھا کہ حکومت تو کہتی ہے کہ مدرسہ سرکاری زمین پر قبضہ کرکے تعمیر کیا گیا ہے تو انہوں نے کہا کہ مدرسے کے لیے حکومت سے منظوری لی گئی تھی۔
البتہ ان کے مطابق گندے پانی کے نالے سے ملحقہ کچھ زمین نظریۂ ضرورت کے تحت استعمال میں لائی اور اس کی منظوری کے لیے درخواست بھی دی لیکن حکومت قبول نہیں کر رہی۔
![]() | |
| لائبریری کے باہر لٹھ بردار بھی موجود رہے ہیں |
بچوں کی سرکاری لائبریری کی دیوار پر جو لوہے کا جنگلہ ہے اس پر طالبات نے کپڑے لگا کر پردہ کر رکھا ہے اور صدر دروازے کو تالہ لگادیا ہے۔ لیکن مدرسے میں داخل ہوکر لائبریری میں جایا جاسکتا ہے۔
اسلام آباد پولیس کے سینئر افسر سکندر حیات کے مطابق انہوں نے لائبریری پر قبضے کے خلاف مقدمہ درج کر رکھا ہے لیکن کارروائی حکومت کی ہدایت پر مؤخر کردی تھی۔ کیونکہ ان کے بقول حکومتی سطح پر معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
حکومت اور علماء کے ایک وفد نے اس بارے میں بات چیت بھی کی جس میں طے پایا تھا کہ حکومت مساجد تعمیر کرے گی۔ وزیر برائے مذہبی امور اعجاز الحق ایک متاثرہ مسجد امیر حمزہ کی تعمیر کے لیے ایک اینٹ بھی رکھی تھی لیکن تاحال تعمیر شروع نہیں ہوئی۔