Wednesday, 28 February, 2007, 13:05 GMT 18:05 PST
صوبہ سرحد کی تاریخی شہر پشاور میں ایک اور قدیم عمارت کےگرائے جانے پر آثار قدیمہ کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی کئی تنظیمیں افسردہ ہیں۔
آخری لمحات میں اسے بچانے کی کوشش بےسود ثابت ہوئیں اور آج کل اس عمارت کو ہمیشہ کے لیے مٹایا جا رہا ہے۔
فلک سیر سینما پشاور صدر کے وسعت میں واقع ہے۔موجودہ وقت میں صدر کا یہ علاقہ پشاور کا سب سے مصروف اور تجارتی اعتبار سے انتہائی مہنگا بازار بن چکا ہے۔
تقریباً ستر برس پرانی یہ عمارت نہ صرف قدیمی اہمیت کی حامل ہے بلکہ شہر کے باقی رہ جانے والے چند سینما گھروں میں سے بھی ایک ہے۔
پشاور میں ستر کی دھائی کے آواخر میں وی سی آر کی آمد سے پہلے تک سینما کا کاروبار کافی پرکشش تھا۔ لوگ اپنی اہل خانہ کے ساتھ فلمیں دیکھنے جایا کرتے تھے۔ لیکن وی سی آر کی آمد سے سینما گھروں کی تنزلی کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جو آج تک جاری ہے۔
فلک سیر سینما کی پشت پر تکہ کباب کا کھوکھا چلانے والے علی زیب کا کہنا تھا کہ یہ اچھا ہے کہ یہ سینما ختم ہو جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے اگر ایک دو کا روزگار اس سے منسلک تھا اور نیا پلازہ بن جانے سے سینکڑوں بلکہ ہزاروں کا فائدہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ سینما سے یہاں کا ماحول بھی خراب ہو رہا تھا۔ ’عجیب عجیب قسم کے لوگ آتے تھے، ٹکٹوں پر جھگڑا رہتا تھا۔‘
قریبی دوکان میں مزدوری کرنے والے عبدالحق کا کہنا تھا کہ سکول کالج کے بچے یہاں آکر وقت ضائع کرتے رہتے تھے۔’پہلے تو سینما والے انہیں ٹکٹ نہیں دیتے تھے لیکن بعد میں وہ بھی نرم پڑ گئے۔‘
ایم ایم اے نے سینما گھروں پر بڑے بڑے پوسٹر اور سائن بورڈ لگانے سے منع کر دیا تھا جبکہ محرم کے علاوہ رمضان اور دیگر اسلامی مواقعوں پر بھی انہیں اپنا کاروبار طویل مدت کے لیے بند رکھنے کی ہدایات دیتے رہتے تھے۔
فلک سیر سینما کی عمارت انیس سو تیس کی دھائی میں تعمیر کی گئی تھی اور اپنے وقت کی خوبصورت ترین عمارتوں میں اس کا شمار ہوتا تھا۔ ماہرین کے خیال میں یہ ڈیکو آرٹ سے مزئین تھی۔ لیکن کاروباری نقصانات کی وجہ سے اس کے مالکان بظاہر کافی عرصے سے اس کی دیکھ بھال پر کوئی توجہ نہیں دے رہے تھے۔ اس سے عمارت انتہائی خراب حالت میں تھی۔
ایک ایک کر کے پشاور اپنی تاریخ، اپنی اہمیت اور اپنی انفرادیت رفتا رفتا کھو رہا ہے۔ بدلتے وقت سے مقابلہ کرنے کی اس کی سقت تقریباً ختم ہوچکی ہے۔