Sunday, 25 February, 2007, 14:45 GMT 19:45 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں شیو یا داڑھی مونڈنے پر مبینہ پابندی کے بعد ایک اور پمفلٹ تقسیم کیا گیا ہے جس میں ڈرائیوروں سے پبلک ٹرانسپورٹ میں موسیقی نہ لگانے کی اپیل کی گئی ہے۔
باجوڑ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق یہ پمفلٹ اتوار کو صدر مقام خار اور بڑے تجارتی مرکز عنایت کلے میں نامعلوم افراد کی جانب سے تقسیم کیا گیا ہے جس میں پبلک ٹرانسپورٹرز سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ مسافر گاڑیوں میں گانے نہ سنیں کیونکہ پمفلٹ کے مطابق موسیقی سننا ’ گناہ کبیرہ‘ ہے۔
پشتو زبان میں جاری کیے گئے اس پمفلٹ کی ایک کاپی بی بی سی کو کو بھی ملی ہے۔ یہ ہدایات سادہ سفید کاغذ پر ہاتھ سے بڑے بڑے حروف سے تحریر کی گئی ہیں۔ پمفلٹ پر کسی کا نام یا دستخط موجود نہیں اور نہ ہی اس میں کسی تنظیم کا نام دیا گیا ہے۔
باجوڑ کی پولیٹکل انتظامیہ نے علاقے میں پمفلٹس تقسیم کیے جانے کی تصدیق کردی ہے تاہم اس سلسلے میں مزید بات کرنے سے انکار کردیا۔
موتراشوں کو دھمکیاں |
باجوڑ میں ایک ہائی ایس ویگن کے ڈرائیور شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ ان پمفلٹس کی تقسیم کے بعد علاقے میں بے یقینی کی فضا پیدا ہوگئی ہے اور پبلک ٹرانسپورٹ کے ڈرائیور عدم تحفظ کا شکار ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ ہم تو دن رات لمبے لمبے سفر کرتے ہیں اور بعض اوقات تو سواریاں بھی ہمارے ساتھ نہیں ہوتیں لیکن تنہائی میں تو ٹیپ کے بغیر ہمارا گزارہ مشکل ہوتا ہے‘۔
باجوڑ میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران یہ دوسرا پمفلٹ ہے جو نامعلوم افراد کی جانب سے جاری کیا گیا ہے تاہم اتوار کو جاری ہونے والے پمفلٹ میں اپیل کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جبکہ اس سے پہلے جو پمفلٹ جاری کیا گیا تھا اس میں موتراشوں یا ہیئر ڈریسروں کو دھمکیاں دی گئی تھیں کہ وہ لوگوں کے شیو نہ بنائیں ورنہ انہیں خطرناک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔