Saturday, 24 February, 2007, 12:15 GMT 17:15 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
پنجاب کی صوبائی وزیر ظل ہما کے قتل کی تفتیش کے لیے پولیس اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کی ایک مشترکہ ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے جس نے ملزم غلام سرور سے پوچھ گچھ کا آغاز کر دیا ہے۔ غلام سرور اس وقت جسمانی ریمانڈ پر گجرانوالہ میں پولیس کی تحویل میں ہیں۔
مقتولہ صوبائی وزیرکے بھائی علی محمد باجوہ نے کہا ہے کہ یہ بات خارج از امکان نہیں ہے کہ ملزم کو کسی سیاسی یا مذہبی جماعت کی حمایت حاصل ہو۔ پولیس کی ایک رپورٹ کےمطابق ملزم مذہبی اجتماعات میں شرکت کرتا رہا ہے۔ پولیس اس بات کی تفتیش بھی کررہی ہے کہ ماضی میں جن چھ عورتوں کو قتل اور زخمی کرنے کے الزامات غلام سرور پر عائد کیے گئے تھے، آیا ان کے ورثاء کو مقدمے کی پیروی سے باز رکھنے کے لیے کسی مذہبی تنظیم نے اسے رقم فراہم تو نہیں کی تھی۔
’بے نظیر بھی نشانے پر تھیں‘ |
ملزم کے چھوٹے بھائی محمد افضل اسی تفتیش کے سلسلے میں تھانہ کوتوالی میں موجود تھے اور ان کا اصرار تھا کہ ان کے بھائی کا کسی مذہبی یا سیاسی تنظیم سے تعلق نہیں بلکہ اس کے والد نےاپنا ایک پلاٹ بیچ کر مقتولین کے ورثاء کو رقم ادا کی تھی۔
![]() | |
ڈی آئی جی آپریشن خادم حسین بھٹی نے غلام سرور کی رہائی کو عدالت کی ذمہ داری قرار دیا تاہم وہ اس سوال کا کوئی جواب نہیں دے سکے کہ آخر پولیس نے ایسا استغاثہ کیوں تیار نہیں کیا جو واقعاتی شہادتوں پر مبنی ہوتا اور گواہوں کے منحرف ہوجانے کے باوجود ملزم کو سزا دلواتا۔
ڈپٹی سپرانٹنڈنٹ پولیس کوتوالی راشد رندھاوا نے کہا کہ اس وقت ایک ایسا ماحول پیدا ہوگیاتھا کہ ہرکوئی ملزم کے اس اقدام کو درست قرار دے رہا تھااور ان کے بقول شاید پولیس اور عدالتی عملہ بھی اس اثر سے باہر نہیں رہ سکے تھے۔
ڈی آئی جی نے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ جب غلام سرور رہا ہوئے تو انہیں ایک جلوس کی شکل میں گھر لے جایا گیا اور پھولوں کے ہار پہنائے گئے تھے۔
درجنوں افراد کو مبینہ مقابلوں میں ہلاک کردینےوالے ایک پولیس افسر کے متنازعہ الفاظ تھے کہ ’ویسے غلام سرور نے اچھا ہی کیا تھا وہ عورتیں (جنہیں قتل کیا گیا) تھیں ہی اتنی گندی کہ انہوں نے گوجرانوالہ شہر کی کوئی ایسی سڑک نہیں چھوڑی تھی جہاں کھڑی ہو کر وہ گاہک تلاش نہ کرتی ہوں‘۔
مقتولہ ظل ہما کے بھائی محمد علی نے مطالبہ کیا ہے کہ اس بات کی تحقیق ہونی چاہیے کہ غلام سرور جیسا خطرناک انسان رہا کیسےہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ پاگل تھا تو اسے پاگل خانےمیں بند کیا جاتا اور اگر اس کا ذہنی توازن درست تھا تو قتل کے اعتراف کے باوجود اس کی رہائی پاکستان کی پولیس اور عدالتی نظام پر ایک سوالیہ نشان ہے۔
![]() | |
| صوبائی وزیر کےشوہر محمد عثمان حیدر |
پولیس نے بھی اپنی رپورٹ میں پردے کے بارے میں ملزم کے سخت رویے کا ذکر کیا ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ ملزم نے اپنے گھر ٹیلی فون تک نہیں لگوایا تاکہ کہیں اس کے گھر کی کوئی عورت کسی مرد کی آواز نہ سن لے۔
ملزم نے اپنے بچوں کے نام پیغمبروں کے ناموں پر رکھے ہیں۔ نام کچھ اس طرح ہیں: آدم، ہود، نوح اور لوط۔ جن کا ذکر پولیس نے اپنی رپورٹ میں بھی کیا ہے۔محلہ داروں کےمطابق وہ ہرجمعرات کو نماز مغرب کے بعد مقامی مسجد میں درس دیا کرتا تھا اور منہ نہ ڈھانپنے والی عورتوں سے نفرت کا یہ عالم تھا کہ اپنی دکان پر آنے والی ایسی عورتوں کو وہ سودا دینے سے انکار کر دیتا تھا۔
![]() | |
| ملزم غلام سرور کا گھر سیل کردیا گیا ہے |
ظل ہما کے قتل کے بعد بھی ملزم نے اعتراف جرم کر لیا ہے بلکہ ابتدائی پولیس تفتیش میں اس نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ سابق وزیراعظم بے نظیر کو قتل کرنے کے لیے سنہ انیس سو چورانوے میں پستول لے کر ان کے جلسے میں گیا تھا لیکن رش کی وجہ سے سٹیج تک نہیں پہنچ سکا۔
ظل ہما کے قتل کا مقدمہ انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت درج کیا گیا ہے۔
صوبائی وزیر کےشوہر محمد عثمان حیدر نے حکومت سےمطالبہ کیا ہے کہ ان کی بیوی کے کیس کو ملائیت اور انتہا پسندوں کے ہاتھوں برباد نہ ہونے دیا جائے۔