http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 23 February, 2007, 19:17 GMT 00:17 PST

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

تھر ایکسپریس کراچی سے روانہ

پاکستان سے سندھ کے راستے بھارت جانے والے مسافروں کو دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر واقع ’زیرو پوائنٹ‘ لے جانے والی تھر ایکسپریس جمعہ کی شب تین سو سے زائد مسافروں کو لے کر کراچی سے روانہ ہوگئی ہے۔

سمجھوتہ ایکسپریس کے واقعہ کے بعد تھر ایکسپریس کی روانگی کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔

کراچی کینٹ سٹیشن پر ہر مسافر کو جامہ تلاشی کے دو سے تین مراحل سے گزرنا پڑ رہا تھا، جبکہ ان کے سامان کی تربیت یافتہ کتے چیکنگ کر رہے تھے۔

پہلی مرتبہ خواتین مسافروں کی بھی جسمانی تلاشی لی گئی، جس کے لیے محکمہ ریلوے کی خواتین پولیس کو مقرر کیا گیا تھا۔

سمجھوتہ ایکسپریس کے واقعہ کے بعد مسافروں میں خوف موجود تھا۔ ٹرین کی روانگی سے قبل کچھ مرد مسافروں نے پلیٹ فارم پر نماز ادا کی تو کچھ خواتین قرآن پاک اور سورۃ یاسین کی تلاوت کرتی ہوئی نظر آئیں۔

عمرکوٹ کے رہائشی مسافر پریم کمار کا کہنا تھا کہ تھر ایکسپریس کی ابتداء کے وقت جو جوش نظر آرہا تھا وہ اب کم ہوگیا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ سمجھوتہ ایکسپریس کے واقعہ نے بھی لوگوں کو خوفزدہ کیا ہے۔

کورنگی کی رہائشی ذکیہ خاتون جو اپنی دادی سے ملنے جے پور جا رہی تھیں کا کہنا تھا کہ انہیں خوشی بھی ہے اور ڈر بھی۔ حفاظتی انتظامات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کو ہوش اسی وقت آتا ہے جب کجھ ہوجاتا، یہ تب جاگتے ہیں۔

مسافروں کی اکثریت کا کہنا تھا کہ بھارتی ویزہ آفس کراچی میں بھی ہونا چاہیے، کیونکہ اسلام آباد میں سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ اس ٹرین میں سوا تین سو سے زائد مسافروں کی بکنگ ہے۔

ٹرین کی روانگی سے تین گھنٹے قبل مسافروں کو سٹیشن پر بلوایا گیا اور ہر مسافر کو کل پینتیس کلو سامان لے جانے کی اجازت تھی، جبکہ پینے کے پانی کے علاوہ کوئی اور محلول لے جانے پر پابندی تھی۔

رینجرز کے اہلکاروں نے مسافروں کی وڈیو فلم بنائی اور تصاویر کھینچیں۔ رینجرز کے ایک ترجمان کے مطابق ٹرین کی تمام بوگیوں کو ٹیلی فون کے ذریعہ ایک دوسرے سے منسلک کیا گیا ہے، جبکہ سادہ کپڑوں میں رینجرز کے اہلکار بھی ہر بوگی میں سفر کر رہے ہیں اور ایک میڈیکل ٹیم بھی ساتھ جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے علاوہ حیدر آباد اور میرپور خاص ریلوے سٹیشنوں پر بھی حفاظتی انتظامات رینجرز کے حوالے کیے گئے ہیں۔ تھر ایکسپریس سنیچر کی صبح زیرو پوائنٹ پہنچی گی، جہاں سے مسافر بھارت سے آنے والی ٹرین میں سوار ہو جائیں گے اور بھارت سے آنے والے مسافر اس میں سوار ہو جائیں گے۔

دونوں ممالک کے درمیاں معاہدے کے تحت چھ ماہ کے لیے ٹرین چلائی جائے گی۔