Friday, 23 February, 2007, 13:55 GMT 18:55 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے صوبہ سندھ کی ایک قوم پرست جماعت کے رہنما ڈاکٹر صفدر سرکی کی مبینہ طور پر انٹیلی جنس حکام کے ہاتھوں پراسرار گمشدگی کے ایک سال کی تکمیل پر ان کی جماعت نے اقوام متحدہ سے مداخلت کر کے انہیں بازیاب کرانے کی اپیل کی ہے۔
’جسقم‘ کے ایک سرکردہ رہنما ریاض چانڈیو کی سربراہی میں ایک وفد نے جمعہ کو اسلام آباد میں واقع اقوام متحدہ کے دفتر میں یاداشت نامہ جمع کرایا اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا معاملہ پاکستان حکومت سے اٹھائیں اور صفدر سرکی کو بازیاب کروائیں۔
’جسقم‘ کے وفد میں حفیظ آزاد ہکڑو سمیت چار اراکین شامل تھے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر بھی اظہار یکجہتی کے طور پر ان کے ہمراہ اقوام متحدہ کے دفتر گئے۔
ریاض چانڈیو نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ خفیہ ایجنسی ’آئی ایس آئی‘ کے اہلکاروں نے ڈاکٹر صفدر سرکی کو جب کراچی سے اغوا کیا تھا تو سندھ پولیس کے ایک افسر چودھری اسلم بھی ان کے ہمراہ تھے۔
ان کے مطابق صفدر سرکی کی بازیابی کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن بھی داخل کی گئی اور ان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کا مؤکل آئی ایس آئی کی ایک بیرک میں قید ہیں اور ان کے مطابق عدالت نے کوئی کارروائی نہیں کی۔
انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے ایک افسر آرتھر جینز نے ان سے یاداشت نامہ لیا اور انہیں یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ پاکستان حکومت سے اس بارے میں بات کریں گے۔
انہوں نے یاداشت نامے کی کاپیاں بھی صحافیوں میں تقسیم کیں جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جماعت کے چار اور کارکن بھی خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں لاپتہ ہیں جن میں آکاش ملاح، آصف بالادی، چیتن بجیر، اور بشیر شاہ شامل ہیں۔
ریاض چانڈیو نے کہا کہ ڈاکٹر صفدر سرکی کو اپنے صوبے کے عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کے جرم میں اٹھایا گیا ہے۔ ان کے مطابق ڈاکٹر سرکی کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں اور اگر حکومت کے پاس ان کے خلاف کوئی ثبوت ہے تو وہ عدالت میں پیش کرے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کے کمیشن کا کہنا ہے کہ صوبہ سندھ اور بلوچستان کے قوم پرست جماعتوں کے سیاسی کارکنوں اور ملک کے دیگر حصوں سے سخت گیر مذہبی رجحان رکھنے والے سینکڑوں افراد لاپتہ ہیں۔ کمیشن کے مطابق پراسرار طور پر لاپتہ افراد کے اہل خانہ کہتے ہیں کہ ان کے پیارے انٹیلی جنس حکام کی تحویل میں ہیں۔